پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی گیارہویں برسی

 آج پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظمبے نظیر بھٹو کی گیارہویں برسی ہے۔ ملک بھر میں پیپلز پارٹی کے کارکن بے نظیر بھٹو کی برسی منا رہے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کا کسی اسلامی ملک کی پہلی خاتون سربراہ بننا، ان کا سیاسی پس منظر، ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بھائیوں کی اموات، اور خود بے نظیر بھٹو کی کرشماتی شخصیت وہ عوامل تھے جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ ہی عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔سیاست میں آنے سے قبل بے نظیر بھٹو کے بچپن اور نوعمری کا حصہ ان کی زندگی کا ایسا حصہ ہے جس سے زیادہ لوگ واقف نہیں ہیں۔ بے نظیر بھٹو کا آبائی شہر کراچی تھا۔ وہ اسی شہر میں پیدا ہوئیں، پروان چڑھیں اور یہیں سے انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔

بے نظیر بھٹو نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی کے بہترین تعلیمی ادارے کراچی گرامر اسکول سے حاصل کی تھی۔بے نظیر بھٹو سندھی اور اُردو زبان بہت خوبصورتی سے بولتی تھیں، لیکن انہیں سکھائی جانے والی پہلی زبان انگریزی تھی۔ بے نظیر بھٹو کی والدہ نصرت بھٹوکے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ ایک ایرانی شہری تھیں۔ جب ان کی شادی بے نظیر بھٹو کے والد ذوالفقار علی بھٹو سے ہوئی تو وہ ایران سےکراچی منتقل ہوگئیں اور یہیں رہائش اختیار کر لی۔ذوالفقار علی بھٹو اپنی وزرات عظمیٰ کے دور میں جب خاتون اول نصرت بھٹو کے ساتھ ایران گئے تو اس وقت شاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے ان دونوں کا استقبال کیا تاہم ان کی ملکہ فرح دیبا وہاں موجود نہیں تھیں، کیونکہ شاہی قوانین کے مطابق ملکہ، ایران کے کسی عام شہری کا استقبال یا اس کی میزبانی نہیں کرسکتی تھیں۔بے نظیر بھٹو دنیا کی عظیم درسگاہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں اپنی تعلیم حاصل کرنے کے دوران آکسفورڈ تقریری یونین کی صدر بھی منتخب ہوئیں۔بے نظیر بھٹو اس عہدے پر منتخب ہونے والی پہلی ایشیائی خاتون تھیں۔ بے نظیر بھٹو اپنے شوہر سابق صدر آصف علی زرداری سے عمر میں 2 سال بڑی تھیں۔ان کے قریبی رفقا اور عزیزوں کا کہنا ہے کہ عمر کی یہ برتری دونوں کے رشتے میں بھی تھی اور بے نظیر 2بھٹو حاکمانہ مزاج رکھتی تھیں۔ یاد رہے کہ آج سے 11 برس قبل 27  دسمبر کی ایک سرد شام بے نظیر بھٹو پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں