پرتگال میں دماغی طور پرمتوفی خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش

پرتگال میں گزشتہ 3ماہ سے دماغی طور پر وفات پانے والی خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی۔ بین الاقوامی سطح پر معروف کھلاڑی خاتون کیتھرینا سکیرا  3ماہ قبل سانس گھٹنے کی وجہ سے کومہ میں چلی گئی تھی۔ ڈاکٹرو ںنے اس کی دماغی وفات کا اعلان کیا تھا تاہم اس وقت وہ حاملہ تھیں۔
بی بی سی عربک میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کیتھرینا  کے ہاں گزشتہ روز بچے کی ولاد ت ہوئی۔ طبی عملے کا کہناہے کہ نومولود 32ہفتے تک ماں کے پیٹ میں تھا۔
کیتھریناکشتی رانی  کے بین الاقوامی مقابلوں میں پرتگال کی نمائندگی کرچکی ہیں۔ وہ بچپن سے ہی دمے کا شکار تھیں۔ انہیں حمل کے19ویں ہفتے میں دمے کا شدید عارضہ لاحق ہوا۔ اس کی وجہ سے وہ کومہ میں چلی گئیں۔ بعدازاں 26دسمبر کو ڈاکٹرو ںنے دماغی طور پر انکی موت کا اعلان کردیا۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروںنے جنین کے32ہفتے مکمل کروانے کیلئے ماں کو آلات کے ذریعے مصنوعی تنفس پر زندہ رکھا۔ اس کے توسط سے جنین کو آکسیجن ملتی رہی۔منصوبے کے مطابق بچے کی ولادت آئندہ دنوں کی جانی تھی مگرماں کی حالت بگڑنے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے جمعہ کو آپریشن کرکے بچے کو نکالنے کا فیصلہ کیا۔ طبی عملے کا کہناہے کہ جو بچہ 32ہفتے تک ماں کے پیٹ میں رہے گا اس کے زندہ رہنے کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں۔
اسپتال میں پیشہ ورانہ اخلاقیات کے شعبے کے سربراہ فلیپی النیڈا نے بی بی سی عربک کو بتایا کہ ماں کی وفات کے بعد بچے کو باقی رکھنے کا فیصلہ انکے خاندان سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔
 پرتگال میں وزارت صحت کے قوانین کے مطابق ایسا اس وقت کیا جاسکتا ہے جب دماغی طور پر وفات پانے والے شخص نے اپنے اعضاء عطیہ کرنے سے منع نہ کیا ہو۔ اعضاء عطیہ کرنے کا مطلب یہی نہیں کہ متوفی شخص اپنا دل، گردے یا پھیپھڑے کسی کو دیدے بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ماں اپنے بچے کی زندگی بچانے کیلئے اپنی زندگی قربان کرسکتی ہے۔
نومولو د کے باپ کی بھی یہی خواہش تھی کہ اسکی بیوی کی آخری نشانی زندہ رہے۔متوفی خاتون کی والدہ نے مقامی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو 26دسمبر کو اسپتال میں داخل کرایا تھا۔ اسکے شوہر کا فیصلہ تھا کہ بچے کو زندہ رکھنے کیلئے اس کی ماں کو مصنوعی تنفس پر رکھا جائے۔ 
 نومولود کا پیدائش کے وقت وزن 1.7کلو  تھا۔ وہ آئندہ  3ہفتے تک ڈاکٹروں کی نگرانی میں رہیگا۔
 یاد رہے کہ اس سے قبل پرتگال میں ہی ایک متوفی خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش ہوچکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں