پنجاب حکومت سے مذاکرات کامیاب، ڈاکٹر اشرف جلالی کا دھرنا ختم کرنیکا اعلان

ہمارے 6 مطالبات تھے جنہیں منظور کر لیا گیا، راجہ ظفرالحق کی تحقیقاتی رپورٹ 20 دسمبر تک سامنےلائی جائے گی، رانا ثنااللہ کے استعفے اور غداری کے مقدمے کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئے: میڈیا سے گفتگو

لاہور: (سنہرادور آن لائن) لاہور میں مال روڈ پر 7 روز سے جاری مذہبی جماعت نے دھرنے کو ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، صوبائی وزیر مجتبی شجاع الرحمن، رانا مشہود سمیت اعلیٰ حکام کے دھرنا قائدین سے مذاکرات طے پا گئے۔ معاہدے کی پہلی شق کے مطابق معاہدہ اسلام آباد کی شق نمبر 3 پر عملدرآمد ہوگا جبکہ راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ 20 دسمبر تک قوم کے سامنے لائی جائے گی۔ دوسری شق میں کہا گیا ہے کہ حکومت پنجاب مساجد پر لاؤڈ سپیکر کی تعداد کے حوالے سے تمام مکاتب فکر کے علماء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے گی۔ اس کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں مطلوبہ قانون سازی 16 جنوری 2018 تک مکمل کر لی جائے گی۔ معاہدے کی تیسری شق کے مطابق وفاقی حکومت اور تحریک لیبیک یارسول اللہ کے مابین 30 نومبر کو اسلام آباد میں ہونیوالے معاہدے کے تمام نکات پر جلد عملدرآمد کیا جائے گا جبکہ معاہدہ کی آخری شق میں کہا گیا ہے کہ متحدہ علما ء بورڈ صوبہ پنجاب میں دینی شعائر کے حوالے سے نصاب تعلیم کا جائزہ لے گا۔

دھرنا قائد ڈاکٹراشرف آصف جلالی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے 6 مطالبات تھے جنہیں منظور کر لیا گیا اور راجہ ظفرالحق کی تحقیقاتی رپورٹ 20 دسمبر تک سامنےلائی جائے گی، ہم دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ اشرف آصف جلالی کا کہنا تھا کہ فیض آباد کا دھرنا ایک تاریخ سازاقدام تھا، وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا استعفی آیا مگر اصل مجرم سامنے نہیں آئے، ہم رانا ثنااللہ کے استعفے اور غداری کے مقدمے کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئے، اب اس کا فیصلہ پیر حمید الدین پر چھوڑ دیا ہے، کمیٹی کی سفارشات پر 12 جنوری 2018 تک عملدرآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 4 جنوری کو تاجدار ختم نبوت کانفرنس مارچ داتا دربار سے چیئرنگ کراس تک ہوگا۔ دھرنے کے اختتام کا اعلان سننے کے بعد کارکنان گھروں کو روانہ ہوگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں