پنجاب میں بسنت منانے کا فیصلہ واپس

لاہور…حکومت پنجاب کا بڑا یو ٹرن، بسنت منانے کا اعلان کرکے فیصلہ واپس لے لیا۔بسنت نہ منانے کا فیصلہ سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کی زیرصدارت اجلاس میں کیا گیا۔ پنجاب حکومت آج عدالت میں تفصیلی جواب جمع کرائے گی۔سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ بسنت نہ منانے کا فیصلہ عوامی مفاد میں کررہے ہیں۔ محفوظ بسنت کی تیاری کے لئے4 سے6 ماہ کی ورکنگ درکار ہے۔ سینئر وزیر نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ادارے ذمہ داریاں پوری کریں تو ایسی سرگرمیاں ہوسکتی ہیں۔ حفاظتی اقدامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ڈور اور پتنگ کی تیاری رجسٹرڈ ہونی چاہیے ۔اس ضمن میں باقاعدہ نظام بھی وضع ہونا ضروری ہے۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ دھاتی تار کے استعمال اور قوانین کی خلاف ورزی پر ایکشن ہونا چاہیے۔ مستقبل کے حوالے سے حفاظتی اقدامات کی تیاری کی جاسکتی ہے۔دسمبر 2018 میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکی زیرصدارت اجلاس میں بسنت کا تہوار روایتی طریقے سے منانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔صوبائی حکومت کے فیصلے کے تحت فروری کے دوسرے ہفتے میں بسنت فیسٹول منایا جانا تھا ج۔پنجاب کے روایتی تہوارکو منانے پر گزشتہ 12 سال سے اعلانیہ پابندی عائد تھی۔ آخری مرتبہ بسنت کا تہوار 2007 میں منایا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں