پولیس کی انتظار قتل کیس کی تحقیقات میں سستی، والدین نے پولیس کی جانب سے جھگڑے پر قتل کا دعویٰ مسترد کر دیا

کراچی: پولیس کی انتظار قتل کیس کی تحقیقات میں سستی، انتظار کے والدین نے پولیس کی جانب سے جھگڑے پر قتل کا دعویٰ مسترد کر دیا، چیف جسٹس اور آرمی چیف سے انصاف کی فراہمی کیلئے مدد کی اپیل۔

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں قانون کے رکھوالوں نے قانون کی دھجیاں بکھیر دیں۔ اینٹی کار لفٹنگ سیل نے کار پر سوار نوجوان کو گولیاں مار کر زندہ رہنے کا حق چھین لیا۔ پولیس نے 6 اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق نوجوان انتظار کی گاڑی کا پیچھا کرنے والے اہلکاروں کی جانب سے گاڑی پر 16 گولیاں برسائی گئیں۔ 3 کار پر لگیں۔ گرفتار اہلکاروں نے کار نہ رکنے پر گولیاں چلانے کا مؤقف اپنایا ہے۔ والد کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ تو درج کیا ہے لیکن نامعلوم افراد کے خلاف!

انتظار کے والدین نے پولیس کی جانب سے جھگڑے پر قتل کا دعویٰ مسترد کر دیا ہے۔ جاں بحق انتظار کے ورثاء نے وکیل کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پولیس پر اظہار عدم اعتماد کیا اور چیف جسٹس اور آرمی چیف سے انصاف کی فراہمی کیلئے مدد کی اپیل بھی کی۔

عینی شاہدین کے مطابق، گولیاں لگنے پر کار گرین بیلٹ سے اڑتی ہوئی سڑک کی دوسری سمت جا گری۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے 6 اہلکاروں کو گرفتار کر لیا ہے اور سرکاری اسلحہ فرانزک لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس نے ابتک 6 اہلکاروں کو گرفتار کیا ہے جبکہ 3 اہلکار فرار ہو گئے ہیں۔ 9 اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ دریں اثناء، انتظار قتل کیس میں حکام کی جانب سے پیٹی بھائیوں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور انتظار کے قتل کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ زیرحراست اور مفرور پولیس اہلکاروں کے پاس نجی ہتھیار بھی تھے، نوجوان پر فائرنگ پولیس اہلکاروں کے ذاتی اسلحے سے کی گئی، شبہ ہے کہ مفرور افسر یا اہلکاروں میں سے کسی ایک کا ہتھیار استعمال ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں