پیدا ہوئے اللہ کے گھر میں پائی شہادت مسجد میں

ڈاکٹر حیدری بابا
اس کائناتِ فانی میں جتنے بھی مذاہب ہیں، ان میں امیرالمومنین ابوالحسن حضرت علی کرم اللہ وجہہ مقدس، پاک اور محترم تسلیم کئے جاتے ہیں۔ کرم اللہ وجہہ حضرت علیؑ کے مبارک نام کے بعد اس لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ آپ نے قبل ازاسلام کبھی بت پرستی نہیں کی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب آپ نے اس دنیا میں آنکھ کھولی تو انکی نگاہیں سب سے پہلے جناب رسول اللہؐ کے چہرۂ مبارک پر پڑیں، چنانچہ یہی پہلی اور آخری خوبصورت شبیہ (پینٹنگ) جو خدا وند تعالیٰ کا شاہکار تھی جو علی ؓ کو پسند آئی اور ان کی نگاہوں کا مرکز بنی رہی۔
حضورؐ نے علی کو پیدا ہوتے ہی گود میں لیا۔ منہ میں زبان دی اور دودھ کی بجائے لعابِ دہن رسول اکرمؐ سے سیراب ہو کر لحمک لحمی حق دار بنے یاد رہے کہ آپ پہلے عظیم انسان ہیں۔

جن کے منہ میں حضورؐ کا لعابِ دہن گیا۔ جس کے نتیجے میں رسول اکرمؐ کا کردر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا کردار بنا اور پیغمبرِ اکرمؐ کا ایمان کے ایمان میں صاف صاف نظر آیا؎
رسالت اور امامت میں بڑا باریک رشتہ ہے
یہ خوشبو کہہ رہی ہے شافع محشرؐ کے بشر سے
جوش ملیح آبادی تحریر فرماتے ہیں کہ ’’ حضرت علی ؓ نے سب سے پہلے جو دیکھا، وہ محمدؐ کا چہرہ تھا اور انہوں نے جو آواز سب سے پہلے سنی وہ حضرت محمدؐ کی آوازتھی۔حضرت محمدؐ نے حضرت علی کو گودمیں پالا اپنی شخصیت کے سانچے میں ڈالا، اپنے سائے میں پروان چڑھایا اور وہ ان کے وجود میں اس طرح جذب ہو گئے کہ علی کو اپنے انفاس سے بوے محمدؐ آنے لگی۔ جس کا نتیجہ نکلا کہ حضرت علی ؓ حق پر اس مضبوطی سے قائم ہو گے کہ وہ حق کا جسم، حق کی جان، حق کا اعلان اور حق کی آواز بن گئے۔‘‘
شانِ علیؓ بزبان مصطفی آپؐ نے فرمایا
کہ علی حق کے ساتھ اور حق علی کے ساتھ۔قرآن علیؓ کے ہیں ۔میںؐ علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہے۔ علیؓ مجھ سے ہیں میں علی سے ہوں۔ سب سے پہلے میرےؐ ساتھ علیؓ نے نماز پڑھی۔ میرا اور علی کا نورایک ہے۔ علیؓ وہ ہیں جن کا چہرہ کو دیکھنا عبادت ہے۔
روایت ہے کہ مسلمانوں کے خلیفہ اول صحابی رسول حضرت ابوبکرؓ حضرت علیؓ کیطرف غور سے بہت دیر تک دیکھتے رہتے تھے۔ کسی نے وجہ پوچھی تو حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ حضرت علیؓ کو رسول اللہؐ بھی بہت دیر تک غور سے دیکھتے رہتے تھے۔حضرت ابوبکرؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسولؐ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سُنا ہے کہ کوئی شخص بھی صراط پر سے گزر کر فردوس میں نہ جا سکے گا۔ جب تک کہ علیؓ کا دیا ہوا پروانہ جنت اس کے پاس نہ ہو گا۔
حضرت علیؓ کے القابات و خظابات میںامیرالمومنین، المرتضیٰ ، اسد اللہ، ید اللہ، نفس اللہ ، حیدر کرار، نفسِ رسول، ساقی کوثر اورکرم اللہ وجہہ شامل تھے۔کنیت ابو تراب اورابوالحسن ہے۔واصف علی واصف کے بقول علیؓ کا نام اسد اللہ علی ؓکاچہرہ وجہ اللہ ،ید اللہ ہے ولی اللہ علیؓ ملت کا رہبر ہے حضرت نظام الدین اولیاؒ فرماتے ہیں علیؓ دین اسلام کے وہ امام ہیں جن کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی یہ وہ شرف ہے جو کہ حضرت آدمؑ سے لیکر آج تک کسی کو نصیب نہیں ہوا اور نہ قیامت تک ہو گا۔
رسول اللہ کی نبوت کے عینی گواہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔بوقت مباہلہ علی کرم اللہ وجہہ خطیب منبر سلونی تھے۔ شب ہجرت بستر رسولؐ پر سوئے اور وقت ہجرت رسول اللہ نے اہل مکہ کی امانتوں کا امین آپ کو بنایا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے مسجد قبا کا سنگِ بنیاد رکھا۔ آپ سب سے بہتر فیصلے کرنے والے تھے۔ جنگ احد میں ہاتف غیبی نے مژدہ سنایا۔ لافتنی الا علی لاسیف الا ذوالفقار ۔ جنگ بدر ماہِ رمضان ۲ ھ میں واقع ہوئی۔اس کی فتح کا سہراآ پ ہی سر تھا۔ آپ کبھی کسی جنگ میں میدان سے بھاگے نہ شکست نہیں کھائی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ تمام مسلمانوں سے تقریباً سات سال پہلے حضورؐ کے ساتھ نماز پڑھنے والے تھے۔ آپ رسول اللہؐ کے ساتھ ساتھ سایہ کی طرح رہتے تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بڑھ کر اس دنیا میں کوئی سخی نہیں۔

آ پ تمام علوم کے موجد اور اُن میں کمال کا درجہ رکھتے تھے۔علم نحو کے قواعد کی ایجاد بھی آپ ہی نے فرمائی اور حروف کے تعارف کے اصول و ضوابط آپ نے تعلیم فرمائے تھے۔ یہ ساری خوبیاں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ذات والا صفات میں بدرجہ اتم موجود تھیں اس طرح آپکی شان میں صرف اتنا ہی کہنا ممکن ہے کہ بعد از رسول خداؐ تمام تر اوصاف و کمالات کے نقطۂ انتہا کی برتری کا دوسرا نام علی کرم اللہ وجہہ ہے۔ آپ کی ذات اخلاق حسنہ کا پیکر اوراوصاف حمیدہ کا مجسمہ تھی، ان کی سیرت بنی انسان کے لیے ایک اعلیٰ نمونہ اور بہترین راہِ ہدایت ہے۔ وحید الحسن ہاشمی نے کیا خُوب کہا ہے۔
بندگان حق کو دینِ حق پیمبرؐ سے ملا
دین کومشکل کشا اللہ کے گھر سے ملا

اپنا تبصرہ بھیجیں