پیغام پاکستان فتویٰ: ’انتہا پسندی پر قابو پانے میں مدد گار‘ صدر ممنون حسین

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف علماء کا فتویٰ (پیغام پاکستان) اسلامی تعلیمات کی روح کے عین مطابق ہے، جس پر عمل درآمد سے انتہا پسندی کے فتنے پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور دنیا کے سامنے اسلام کی تعلیمات کے علاوہ پاکستانی معاشرے کا مثبت تاثر بھی اجاگر ہوگا۔

اسلام آباد میں ایوان صدر میں پیغام پاکستان فتوے کی تقریب اجراء سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ اسلام کی روح سے شدت پسندی، خون ریزی اور خود کش حملے فساد فی الارض کے زمرے میں آتے ہیں، جو قطعاً ناجائز اور حرام ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خوشی ہے کہ علماء کے اس فتوے کو ریاستی اداروں کی تائید حاصل ہوئی اور اتفاق رائے ہی ہماری کامیابی کی کلید ہے، یہ مرحلہ طے کرنے کے بعد ضروری ہے کہ قوم کے دیگر طبقات کے نقطہ نظر کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ ہر طبقہ اس کے فروغ میں کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف مکاتب فکر کے علماء اور وفاق المدارس نے باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے جو فتویٰ جاری کیا ہے وہ درست سمت میں ایک مثبت پیش رفت ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اسلام امن محبت اور رواداری کا دین ہے۔

ترقی یافتہ ریاست کے لیے متحد ہونے کی ضرورت ہے، احسن اقبال
وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف علماء کا فتویٰ (پیغام پاکستان) ہمیں یکجا کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرے گا اور ترقی یافتہ اور فلاحی ریاست کے لیے ہمیں متحد ہو کر ہی آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا پیغام پاکستان کے ذریعے ہم پوری قوم کو متحد کرسکتے ہیں اور پاکستان کو وہ امن و استحکام میسر آسکتا ہے، جس سے ہم 21 ویں صدی میں پاکستان کو ایک ممتاز ملک اور ایشیا کا ٹائگر بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا 70 سال بعد ہمارے لیے یہ لمحہ فکریہ ضرور ہے کہ پاکستان کا وہ خواب جس میں ہم نے لوگوں کو خود اعتمادی دینی تھی پورا نہیں ہوسکا۔

وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ یہ سب تب ہی ممکن ہوتا ہے جب قوم کی خود اعتمادی اور بیانیہ سامنے ہو لیکن ’جب کسی قوم کا اپنے بارے میں بیانیہ منتشر ہوجاتا ہے تو وہ بھی منتشر الخیال افراد کا ایک گروہ بن جاتی ہے، جس کے بعد تنازعات جنم لیتے ہیں‘۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم اس خطے میں کئی عرصے سے تنازعات کو بھگت رہے ہیں اور آج جو حالات ہمیں درپیش ہیں وہ مکمل طور پر ہمارے پیدا کردہ نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے عالمی طاقتوں کا ہاتھ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ عالمی طاقتیں ہیں، جنہوں نے ہمارے ساتھ مل کر سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑی لیکن جب سوویت یونین کو افغانستان میں شکست ہوئی تو وہ اسلحوں کے انبار اور غریب معاشرے میں مسلح عسکری جدوجہد کو چھوڑ پر ہاتھ جھاڑ کر یہاں سے چلی گئیں۔

تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد امریکا اور جرمنی کو ٹرافی مل گئی لیکن پاکستان کے حصے میں 35 لاکھ مہاجرین، منشیات اور کلاشنکوف کلچرل رہ گیا۔

ان کا کہنا تھا آج یورپ یا امریکا میں دو درجن شام کے مہاجرین چلے جائیں تو کہرام مچ جاتا ہے لیکن پاکستان نے اسلامی جذبے کے تحت بغیر کسی سے ڈالر مانگے ان مہاجرین کو پناہ دی، لہٰذا ہم الزام کے مستحق ہر گز نہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کے قیام کی بنیاد دو قومی نظر تھا تو اس ملک کی بقا کی بنیاد ایک قومی نظریہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس لیے وجود میں نہیں آیا تھا کہ دنیا کے غریب و پسماندہ ممالک کی صفوں میں ایک اور ملک کا اضافہ ہو بلکہ پاکستان کی روح اور نظریہ کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ ہم دنیا کو بتا سکیں کہ دور جدید میں بھی مسلمانان جنوبی ایشیا یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ اسلام کے آفاقی اصولوں کی روشنی میں ایک کامیاب ریاست بنا سکتے ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اس لیے اب یہ ضروری ہے کہ ہم دنیا کی جانب دیکھنے کے بجائے سب مل کر پاکستان کو امن و استحکام کا گہوارا بنائیں اور اسے ایک مضبوط اقتصادی اور معاشی قوت بنانے کے لیے سب مل کر کام کریں کیونکہ آج کے دور میں اسی ملک کی عزت ہے جس کی معیشت مضبوط ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی انقلاب کے بعد تعلیمی انقلاب دستک دے رہا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ صنعتی انتقلاب کو اسلامی ممالک نے نہیں سمجھا جبکہ مغرب نے اس سے فائدہ اٹھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پیغام پاکستان کو ایوان صدر سے نکال کر اس ملک کے ہر گوشے گوشے میں امام مسجد کے ہاتھ میں پہنچا دیں تاکہ اس قوم میں نفرت کے بجائے محبت کی بیج بوئے جائیں۔

اس سے قبل وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ سیرت نبوی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا تقاضہ یہ ہے کہ اہل پاکستان دہشت گردی کے خلاف یک زبان ہوں اور ان کا بیانیہ ایک ہو اور اس قومی بیانیہ کو ہر شخص اپنا بیانیہ تسلیم کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے آج اس بیانیہ کو جاری کرکے دہشت گردی کے خلاف تمام قومی اداروں کی ہم آہنگی کو پوری دنیا پر واضح کردیا ہے اور پیغام پاکستان کے نکات بہت جامع ہیں اور اس میں دہشت گردی کی تمام صورتوں کو مسترد کردیا گیا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پوری قوم کے علماء کرام، ملکی جامعات اور اہل علم و دانش نے قومی بیانیے کی آج توسیع کا جو اعلان کیا ہے اس کے انتہائی مثبت نتائج جلد قوم کے سامنے آنا شروع ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں