پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی، وزیراعلیٰ سندھ عدالت طلب

کراچی :(سنہرادور آن لائن) سپریم کورٹ رجسٹری میں شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کے معاملے کی سماعت ہوئی، کراچی اور سندھ والوں کو پینے کا صاف پانی نہ ملنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا، عدالت نے وزیراعلیٰ سندھ اور مصطفیٰ کمال کو پرسوں طلب کرلیا۔
شہریوں کو صاف پانی کیوں نہیں مل رہا، وزیراعلیٰ سندھ آئیں اور خود بتائیں، سپریم کورٹ نے وڈے سائیں کو طلب کرلیا، جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ لاڑکانہ تو حکمراں جماعت کا گڑھ ہے، 88 فیصد پانی کیوں گندہ فراہم کیا جارہا ہے، جو لوگ گھر گھر جاکر ووٹ مانگتے ہیں، وہ جواب بھی دیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ذمہ داری ادا نہ کرے تو عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے، ہم بغض نہیں رکھتے، میرٹ پر فیصلہ دیتے ہیں، کسی کو اچھا لگے یا برا، بعد میں بھلے کہتے رہیں کہ میرے خلاف فیصلہ کیوں آیا۔
عدالت کا مزید کہنا تھا کہ شہریوں کو صاف پانی اور ماحول فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، واٹر کمیشن کی ویڈیو سندھ اسمبلی میں کیوں نہیں دکھائی گئی، بڑے لوگ امپورٹڈ اور غریب گندا پانی پی رہے ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے محمود آباد میں فلٹریشن پلانٹ کی 50 ایکڑ زمین غیرقانونی الاٹ کرنے پر مصطفیٰ کمال سے بھی وضاحت مانگ لی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں