پی بی اے کا ایف آئی اے کو قانونی نوٹس ایگزیکٹ کیس میں حقائق چھپانے کا الزام

کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے جعلی ڈگریوں کا دھندا کرنے والی ایگزیکٹ کمپنی کے خلاف تحقیقات میں غفلت برتنے پر ایف آئی اے کو قانونی نوٹس بھجوا دیا ۔ قانونی نوٹس مرحومہ عاصمہ جہانگیر نے وفات سے ایک روز پہلے تیار کیا تھا ۔ پی بی اے کا کہنا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کی پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں ان کا آخری ڈرافٹ کیا گیا قانونی نوٹس اسی طرح ایف آئی اے کو بھجوایا ہے ۔ پی بی اے نے قانونی نوٹس میں کہا ہے کہ ایف آئی نے دباؤ میں شواہد چھپائے ، عدالت عظمی کو گمراہ کیا ، ایف آئی اے ایگزیکٹ کمپنی کے خلاف نئی ایف آئی آر درج کرے ، اثاثے منجمد کر کے ملزمان کو گرفتار کیا جائے ، منی لانڈرنگ کی تحقیقات دوبارہ کھولی جائیں ، ایگزیکٹ کے کالے دھن سے چلنے والے ایگزیکٹ کے چینل اور اس کی کمپنی کی تحقیقات کرے تا کہ سچ سامنے آسکے۔ جعلی ڈگری اسکینڈل میں ملوث ایگزیکٹ کمپنی کے خلاف تحقیقات کو آگے کیوں نہیں بڑھایا۔ سپریم کورٹ کو از خود نوٹس کیس میں تمام حقائق سے آگاہ کیوں نہیں کیا۔ ایگزیکٹ کمپنی کے خلاف کیس کے اہم پہلوؤں کو منظر عام پر لانے کی سرکاری ڈیوٹی قانون کے تحت کیوں ادا نہیں کی۔ دباؤ میں کر اہم شواہد کیوں چھپائے۔ لیگل نوٹس کا ڈرافٹ مرحومہ عاصمہ جہانگیر نے ایک رات پہلے دس فروری رات آٹھ بج کر تیرہ منٹ پر پی بی اے کو بھجوایا۔ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے عاصمہ جہانگیر کا ڈرافٹ کیا گیا آخری لیگل نوٹس کورنگ لیٹر کے ساتھ ایف آئی اے کو بھجوا دیا ہے۔ قانونی نوٹس میں محترمہ عاصمہ جہانگیر نے لکھا کہ ایف آئی اے ایگزیکٹ کمپنی کے تحت چلنے والے میڈیا ہاؤسز کا آپس میں تعلق بتانے میں ناکام رہا، اس تعلق پر نا تو تحقیقات کی گئیں نا ہی سپریم کورٹ کو اس سے آگاہ یا گیا۔ ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریوں کا دھندا کرنے والی اب بھی 84؍ ویب سائٹس کام کر رہی ہیں مگر سپریم کورٹ کو نہیں بتایا گیا۔ ایف آئی اے نے معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے بیرون ملک شواہد اکٹھے کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جبکہ فیڈرل ٹریڈ کمیشن کا اس ضمن میں خط بھی ریکارڈ سے غائب کر دیا گیا۔ محترمہ عاصمہ جہانگیر نے قانونی نوٹس میں لکھا کہ پی بی اے کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے تاکہ کالا دھن میڈیا کے آزاد تاثر کو زائل نا کر سکے۔ ایف آئی اے مطلوبہ شواہد اکٹھے کرے اور درست معلومات حاصل کرے تاکہ حقائق منظر عام پر لائے جا سکیں۔ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے محترمہ عاصمہ جہانگیر مرحومہ کے تیار کیے گئے آخری لیگل نوٹس کے ساتھ احمد اینڈ قاظمی ایڈووکیٹس اینڈ لیگل کنسلٹنٹس کی جانب سے بھی ایک قانونی نوٹس ایف آئی اے کو بھجوایا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹ کا جعلی ڈگریوں کے پیسے سے چینل چلایا جا رہا ہے، مگر ایف آئی اے عدالت عظمی کو مسلسل گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر تحقیقات کو درست انداز سے آگے نا بڑھایا گیا تو انصاف کے تقاضے پورے ہونے کی بجائے ملزمان کو چھوٹ مل سکتی ہے۔ کراچی میں مقدمے کے پہلے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے کئی کامیابیاں حاصل کیں مگر ان کے چھوڑ جانے کے بعد ملزمان کی ضمانتیں ہو گئی، اثاثے غیر منجمد ہوئے اور شواہد ضائع کر کے ٹرائل کو جانبدارنہ سمت میں موڑا گیا۔ لیگل نوٹس میں ایف آئی اے سے کہا گیا ہے کہ جعلی ڈگریوں کا دھندا کرنے والی کمپنی کے خلاف نئی ایف آئی آر درج کی جائے، اثاثے منجمد کر کے تحقیقات کی جائیں، ملزمان کو گرفتار کیا جائے، منی لانڈرنگ پر تحقیقات کو دوبارہ کھولا جائے ، بیرسٹر زاہد جمیل اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کو دوبارہ تحقیقات سونپی جائیں، امریکا اور برطانیہ سے قانونی شواہد، گواہیاں اور قانونی معاونت لی جائے، ایف بی آئی کے خط کی تصدیق کرائی جائے، ایگزیکٹ کے دبئی میں اکاؤنٹس کی تفصیلات لی جائیں،، شواہد اکٹھے کر کے معاملے کو مطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں