چوہوں کا کار چلانا ڈپریشن کے علاج میں معاون ثابت

امریکی یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک تجربے میں چوہوں کو کار چلانے کی تربیت دے دی۔

امریکا کی یونیورسٹی آف رچمنڈ میں چوہوں پر ریسرچ کی گئی جس میں انہیں کار چلانے کی تربیت دی گئی، اس ریسرچ میں 17 چوہوں کو شامل کیاگیا تھا جن میں سے 11 نر اور 6 مادہ چوہے تھے۔

ریسرچ کی سربراہ و نفسیات کی پروفیسر ڈاکٹر کیلے لیمبرٹ کے مطابق چوہے ٹاسک کے دوران بالکل پر سکون رہے، اس تحقیق سے ہمیں مستقبل میں ذہنی صحت کے مسائل کو بغیر دوائیوں کے حل کرنے میں مدد ملے گی۔

اس تحقیق میں چوہوں کیلئے ایک چھوٹی سے پلاسٹک کی کار بنائی گئی تھی جس میں المونیم کی پلیٹ لگائی گئی اور ساتھ ہی تانبے کے تار کو کار کے تینوں اطراف دائیں، بائیں اور درمیان سے گزارا گیا۔

چوہوں کو مختلف مرغوب غذائیں کھانے کا ٹاسک دیا جاتا تھا جس پر وہ گاڑی کے ذریعے اس مقام تک پہنچتے تھے۔ دوران تحقیق جیسے ہی چوہا کار میں المونیم کی پلیٹ پر بیٹھتا تو کار چلنا شروع ہوجاتی تھی۔

لیمبرٹ نے بتایا کہ کئی ماہ کی تربیت کے بعد چوہوں نے کار چلانے کے علاوہ اس کی سمت تبدیل کرنا بھی سیکھی، اس عمل میں قدرتی ماحول میں رہنے والے چوہوں نے لیبارٹری کے چوہوں سے زیادہ حیران کن نتائج دیے۔

تحقیق کے دوران چوہوں کے فضلے کا بھی ٹیسٹ کیا گیا جس میں اینٹی اسٹریس ہارمونز بڑی تعداد میں پائے گئے، ماہرین کے مطابق ان ہارمونز کا بڑی مقدار میں موجود ہونا نشاندہی ہے کہ چوہے نئی صلاحیت سیکھنے کے دوران زیادہ پرسکون تھے۔

محقق ڈاکٹر لیمبرٹ کا کہنا ہے کہ ہم اس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ اس نئی تحقیق سے مستقبل میں مختلف نفسیاتی و ذہنی مسائل کا علاج ممکن ہوسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی ہمارے پاس ڈپریشن اور شیزوفرینیا کا علاج نہیں ہے اور ہمیں اس سمت میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں