چٹکی کاٹیں یا گولی ماریں، ہر چیز کا جواب ملے گا

 اسلام آباد…خرم شہزاد
کسی زمانے میں افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کی پریس بریفنگ سرحدوں پر ہونیوالی بڑی تبدیلیوں یا پھر فوجی ادوار میں صدر مملکت کے اقدامات کے متعلق منعقد کی جاتی تھیں گزشتہ چند سالوں سے ان سے ملکی، علاقائی اور عالمی سطح پر ایک نیا بیانیہ جاری کرنے کا کام لیا جا رہا ہے۔ 
بالخصوص جب سے میجر جنرل آصف غفور آئی یس پی آر کے سربراہ بنے ہیں انہوں نے نہ صرف تواتر سے نیوز کانفرنسز منعقد کی ہیں بلکہ متعد د آف دی ریکارڈ ملاقاتوں میں صحافیوں کے سامنے دل باربار کھول کے رکھا ہے اور ہر طرح کے موضوع پر اظہار خیال کیا ہے۔ 
جمعے کو جب اسی نوع کی ایک اورمحفل کا انعقاد کیا گیا تو یہ کچھ ماہ کے وقفے سے کیا گیاتھا۔ اس کے مقررہ وقت سے قبل ہی کانفرنس ہال نہ صرف مقامی اور بین الاقوامی صحافیوں سے کھچا کھچ بھر چکا تھا بلکہ اس میں مرد و خواتین کے اینکرز کی بھی ایک بڑی تعداد، جن کا دفاعی امور کی رپورٹنگ سے کوئی تعلق نہیں، بھی موجود تھیں۔
پریس کانفرنس کا ماحو ل دیکھ کرمحسوس ہوا کہ یہ ہندکے ساتھ پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی پر گفتگوکے ساتھ کسی اور بیانیے پربات کرنے کے لئے منعقد کی گئی ہے لیکن چہ میگو ئیاں کرنے والاکوئی بھی صحافی اس بات کا اندازہ لگانے سے قاصر رہا کہ یہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی یا جاسوسی کے الزام میں پکڑے جانے والے2 فوجی افسروں کے خلاف کارروائی کے اعلان کا باعث بھی بنے گی۔
حسب عادت جنرل غفو ر باری باری تمام موضوعات زیر بحث لائے لیکن سب سے زیادہ زو ر انہوں نے ہندکے ساتھ کشیدگی پر دیا۔آف کیمرہ گفتگو میں بھی متعدد پیغامات دیئے جن میں سے ایک یہ بھی تھا ”چٹکی کاٹیں یا گولی ماریں، ہر چیز کا جواب ملے گا”۔
 انہوں نے یہ بات بھی بڑے یقین سے کہی کہ پاکستان ہند کے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کی حکمت عملی کو پریشن سے پہلے ہی تباہ کر دیا ہے۔ 
ڈی جی آئی ا یس پی آر نے ہند کو منہ توڑ جواب دینے کے دعوے کے ساتھ بڑے اعتماد سے یہ بھی کہا کہ ہند کی طرف سے جنگ کی د ھمکیوں کے باوجود یہ آزمائش کا وقت نہیں ہے۔ 
ان کے تمام بڑے بولوں کے آخر میں جو 2 انتہائی اہم مگر تشنہ انکشاف کئے گئے وہ جنرل اسد درانی کی را کے سابق چیف کے ساتھ مل کر کتاب لکھنے کے جرم کی سزا کے طور پر پنشن ضبطی اور2 حاضرسروس اعلٰی افسران کی جاسوسی کے الزامات کے تحت گرفتاری کے تھے۔ پریس کانفرنس میں صحافیوں کے ہجوم ، موضوعات کی بھرمار اورجنرل آصف غفور کی طرف سے ایران کی سرحدوں پر کشیدگی، شدت پسند گروپوں پر پابندی اورسابق وزیراعظم نواز شریف اور صدر پرویز مشرف کی طرف سے ہند میں پاکستانی دہشت گردوں کی کارروائیوں کے متعلق سوالات کو کامیابی سے ٹالنے کے بعد خواہش کے باوجود جنرل اسددرانی کو دی جانیوالی کم سزا کے متعلق سوال پوچھا جا سکا اور نہ ہی گرفتار افسروں کے بارے میں مزید آگاہی سے متعلق کہ اس تشنگی کے بجھنے کے امکانات کم ہی موجود تھے۔
نہ جانے کیوں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ تازہ ترین پریس کانفرنس کی ضرورت ہند کی دھمکیوں کا جواب دینے کے لئے کم اور ان د ھمکیوںکے درمیان افواج پاکستان کے افسران کے متعلق انضباطی کارروائیوں کے ”
پوشیدہ اعلان ” کے لئے زیادہ تھی۔  

(اردو نیوز)

اپنا تبصرہ بھیجیں