چھینک روکنے کا یہ نقصان جانتے ہیں؟

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈسیک) کسی الرجی یا کوئی چیز جیسے کیڑا ناک میں چلے جانے پر جسم اس سے فوری نجات کے لیے چھینک کا سہارا لیتا ہے۔ایسا ہونے پر پسلیوں کے درمیان مسلز کی حرکت اور پردہ شکم حرکت میں آکر ناک میں سے ہر چیز کو خارج کردیتے ہیں۔بنیادی طور پر یہ ایک خودکار اور انسان کے کنٹرول سے باہر ردعمل ہے جو کہ سانس کی نالی کو کھلی رکھنے کے لیے ہے۔ایک چھینک بہت طاقتور ہوتی ہے مگر اس کے آنے سے پہلے ناک کو دبانا یا منہ کو بند کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہوا نکل نہ سکے جو پھر باہر کی بجائے، جسم کے اندر جاتی ہے جو کہ موت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔یہ انتباہ برطانوی ڈاکٹروں نے اس وقت کیا جب ایک شخص کے گلے میں اس وقت سوراخ ہوگیا جب اس نے چھینک پر قابو پانے کی کوشش کی۔طبی جریدے بی ایم جے کیس رپورٹس میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ لیسٹر کے ایک ہسپتال میں ایک صحت مند شخص کو لایا گیا، جو چیزیں نگلنے میں مشکل کی شکایت کررہا تھا جبکہ اس کے ورم زدہ حلق سے عجیب آوازیں نکل رہی تھیں۔اس 34 سالہ شخص نے بتایا کہ یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب اس نے، چھینک کو روکنے کے لیے اپنی ناک کو دبایا اور منہ کو بند کرلیا۔ہسپتال آنے کے بعد وہ آواز سے محروم ہوگیا اور وہاں ایک ہفتے تک رہا۔ڈاکٹروں کے مطابق جب چھینک آتی ہے تو ہوا ڈیڑھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خارج ہوتی ہے، اگر اس دباﺅ کو روکا جائے تو اس سے بہت زیادہ نقصان ہوسکتا ہے اور اس شخص جیسا انجام ہوسکتا ہے جس نے ایسا کرنے پر ہوا کو جسم میں قید کرلیا۔اس مریض کے معائنے کے دوران ڈاکٹروں نے آواز سنی جو پسلیوں سے آرہی تھی، یہ سینے میں ہوا کا بلبلہ پھنسنے کی علامت تھی۔

انفیکشن اور دیگر طبی پیچیدگیوں کے پیش نظر اس شخص کو ہسپتال میں داخل کرکے فیڈنگ ٹیوب سے غذا فراہم کی گئی۔ٹیکساس یونیورسٹی کے سر اور گلے کے سرجن ڈاکٹر زی یانگ جیانگ کے مطابق ہر سال انہیں اس طرح کے ایک یا دو کیسز دیکھنے کو ملتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایک چھینک بھی اتنی طاقت پیدا کرسکتی ہے جو جسم کے اندر اس قسم کا نقصان پہنچا سکتی ہے جو گولی لگنے سے ہوسکتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ چھینک بھی وائرس اور بیکٹریا کی طرح جسم سے نکلتی ہے، تو اگر آپ، اس کو روکنے کی کوشش کریں گے تو وہ جسم کے کسی دوسرے حصے میں جاسکتی ہے، یہ اضافی ہوا اکثر تو انسانی جسم جذب کرلیتا ہے، تاہم کئی بار نقصان بلکہ موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق خود کو بچانے کا بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ آس پاس کے ماحول کو دیکھے بغیر چھینک مار دیں، چاہے جتنی بھی بلند کیوں نہ ہو۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں