چیف جسٹس کا جاتی امراء اور گورنر ہاؤس سے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے جاتی امرا،ماڈل ٹاؤن اورگورنرہاؤس سے رکاوٹیں فوری ہٹانے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس نے یہ حکم سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سیکورٹی کے نام پر سڑکوں کی بندش اور صاف پانے سے متعلق لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران دیا۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس میاں ثاقب نثار نے جامعہ قادسیہ،حافظ سعید کےگھر،چوبرجی،ایوان عدل اور وزیراعلی ہاؤس سے بھی رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ رات تک رکاوٹیں ہٹادی جائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہوم سیکرٹری حلف دیں کہ رات تک رکاوٹیں ہٹادی جائیں گی۔

ایڈیشنل سیکریٹری ہوم نے کہا کہ رکاوٹیں دھمکیاں ملنے کی وجہ سے لگائی گئیں۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا مجھے دھمکیاں نہیں ملتیں، اپنی فورسز کو الرٹ کریں،وزیر اعلیٰ کو ڈرا دھمکا کرگھر نہ بٹھائیں۔

جسٹس میاں ثاقب نثارکا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ عوامی آدمی ہیں،وزیراعلیٰ کو کہنا چاہیے شہبازشریف کسی سے نہیں ڈرتا،کیوں وزیراعلیٰ صاحب ہم ٹھیک کررہےہیں؟

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جی ،چیف جسٹس صاحب آپ ٹھیک کررہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ان معاملات کا مقصد سیاست کرنا نہیں ہے،عدلیہ اور انتظامیہ مل کرعوامی حقوق کاتحفظ کریں۔چیف جسٹس نے شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آپ نےوزیراعلیٰ سندھ کی طرح عدالت آکراچھی روایت قائم کی۔ہم آپ کے مشکور ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں