چیف جسٹس کا زینب قتل کیس میں پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے زینب قتل کیس میں پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں خصوصی بنچ قصور میں7 سالہ معصوم زینب سے زیادتی اور قتل کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 2 تھانوں کی حدود میں مسلسل واقعات ہوئے، کسی نے انکوائری کیوں نہیں کی؟چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اتنے واقعات پر پولیس کیا کر رہی تھی؟

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں زینب قتل کیس کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران متاثرہ بچوں اور بچیوں کے والدین بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ محمد ادریس اور پنجاب فرانزک ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل نے چیف جسٹس کوملٹی میڈیا پر بریفنگ دی۔

یاد رہے کہ پنجاب کے ضلع قصور سے اغواء کی جانے والی 7 سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا، جس کی لاش 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی۔

زینب کے قتل کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور قصور میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے دوران پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔بعدازاں چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا۔

تاہم 16 جنوری کو سماعت کے دوران چیف جسٹس سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کو واقعے پر سماعت سے روکتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ ہائیکورٹ کے پاس ازخود نوٹس کا اختیار نہیں لہذا لاہور ہائیکورٹ میں مقدمے کی سماعت روک رہے ہیں۔

واضح رہے کہ کئی گزرنے کے باوجو​د بھی زینب کا قاتل اب تک گرفتار نہیں کیا جاسکا۔تحقیقات کے سلسلے میں قصور میں 100 سے زائد افراد کے ڈی این اے بھی لیے جاچکے ہیں تاہم ابھی تک اس حوالے سے بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں