چینی سائینسدانوں نے مٹی اور ماحول کی آلودگی کو کم کرنے کی زرعی دوا تیار کر لی

چینی سائینسدانوں نے نینو سلو ریلزنگ ٹیکنالوجی پر مشتمل ایک زرعی دوا تیار کی ہے جو کہ مٹی کی زرخیزی میں اضافہ کرے گی اور مٹی کی آلودگی کو کم کرے گی۔ اس حوالے سے چائینیز اکیڈی آف سائینز کے تحت حیفے انسٹیٹوٹ آف فزیکل سائینسز کی ٹیم نے پروفیسر وو چھنگ یان کی سربراہی میں یہ نئی دوا تیار کی ۔یہ ماحول میں دوا کے مالیکیولوں کی نقل و حرکت پر قابو پانے میں مدد فراہم کر سکتی ہے اور اس سے زرعی ادویات کا ضیاع کم ہو گا اور ماحول کو بھی کم نقصان پہنچے گا ۔ یہ نتائج حال ہی میں امریکین کیمسٹری سوسائٹی اے سی ایس کی طرف سے سسٹین ایبل کیمسٹری اور انجینئرنگ کے نام سے شائع ایک تعلیمی جریدے میں جاری کیے گئے .ٹیم کے سربراہ وو نے بتایا کہ چین کی زراعت کی صنعت پیسٹیسائیڈز پر انحصار کرتے ہوئے ہر سال ایک ملین ٹن سے زائد کیڑے مار ادویہ کا استعمال کرتی ہے ۔ تاہم صرف 30 فی صد کا اثر فصلوں پر ہوتا ہے جبکہ باقی آسانی کے ساتھ دھل جاتی ہیں ۔ لہذا روایتی زراعت میں ہر روز پیسٹیسائیڈ کا روزانہ کئی بار چھڑکاو ہونا ضروری ہوجاتا ہے جس سے ماحولیاتی آلودگی پیدا ہوتی ہے اور ادویات بھی ضائع ہوتی ہیں ۔ وو نے کہا کے یہ ٹیکنالوجی ماحول دوست اور کم لاگت ہے ۔اور چینی زراعت کی صنعت کی مشکلات کے لیے بہترین حل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں