ڈیم فنڈ میں مبینہ خرد برد کی انکوائری کی جائے، مرتضیٰ وہاب

مشیر اطلاعات قانون و اینٹی کرپشن سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ ڈیم فنڈ میں مبینہ خرد برد کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کی جائے ،وفاقی وزیر کے بیان کے بعد ڈیم فنڈ سے متعلق شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں، گورنر ہاؤس میں فنڈ ریزنگ تقریب میں وزیراعظم نے 76 کروڑ روپے جمع کرنے کی نوید سنائی تاہم گورنر سندھ نے76 کروڑ کے بجائے صرف 67کروڑ روپے کا چیک وزیراعظم کو پیش کیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی میڈیا کارنر پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

بیرسٹر مرتضی وہاب نے مزید کہا کہ دوسروں پر جھوٹے الزام لگانے والوں پر کرپشن ثابت ہورہی ہے۔ پی ٹی آئی کا جمہور اور نہ ہی جمہوریت سے کوئی تعلق ہے۔ آرٹیکل 149 کا حوالہ دینے والے آرٹیکل148اور150 کا مطالعہ بھی کرلیں۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ الزام تراشی کی سیاست کی ہے، انہوں نے 22 سالہ سیاسی تاریخ میں دوسروں پر الزمات لگائے لیکن انکے الزامات آج تک ثابت نہیں ہوئے، عمران نیازی اور انکی ہمشیرہ پر الزام لگے تو وہ اسکا جواب نہیں دیتے۔ اکبر ایس بابر کی شوکت خانم اسپتال کی فنڈنگ کے خلاف پٹیشن ہے لیکن اسکا کچھ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ وہ آج میں ایک اہم انکشاف کرنے جارہے ہیں، جو الزام نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ بیرسٹر مرتضی وہاب نے بتایا کہ ایک وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے اپنے انٹرویو میں ڈیم فنڈ میں کیش جمع کرانے کے بجائے چیک کی صوت میں جمع کرانے کی درخواست کی ہے، اسکی ضرورت کیوں پیش آئی۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل گورنر ہاؤس کراچی میں ڈیم فنڈ ریزنگ سے متعلق تقریب میں وزیراعظم عمران خان نیازی نے ٹوئٹ کیا کہ تقریب میں 76کروڑ روپے جمع کرلئے، اس تقریب کے منتظم فخر عالم نے بھی بیان دیا کہ تقریب میں 76کروڑ روپے جمع ہوگئے لیکن گورنر صاحب نے وزیراعظم کو67 کروڑ روپے کا چیک دیا۔ بتایا جائے کہ باقی پیسے کہاں گئے ؟ یہ سوال کوئی اپوزیشن رکن نہیں بلکہ وفاقی وزیر نے یہ سوال اُٹھائے ہیں۔

انہوں نے عدالت عظمیٰ سے بھی معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیااور کہا کہ اگر کوئی ہیرا پھیری ہورہی ہے تو اس کی انکوائری ہونی چاہئے۔

بیرسٹر مرتضی وہاب کا مزید کہنا تھا کہ جب سے بلاول بھٹو زرداری نے اپنی عوامی رابطہ مہم شروع کی تو وفاقی حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آئی ہے وفاقی حکومت نے خود بھی اور اپنے اتحادیوں کے ذریعے اٹھارویں ترمیم کے خلاف تحریک شروع کردی ہے، پی ٹی آئی کے اتحادی بھی یوٹرن لینے لگ گئے ہیں، اٹھارویں ترمیم پر جب کام شروع ہوا تو ایم کیوایم پاکستان صوبائی خود مختاری پر متحرک نظر آئی تھی متحدہ بتائے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم میں کیا غلط چیز ہے؟ کیا وہ صوبوں کو خودمختار نہیں دیکھنا چاہتی ؟کیا وہ صوبوں کے وسائل کے خلاف ہیں؟ جی ڈی اے کے دوست جو ماضی میں سندھ دھرتی کے نعرے لگاتے تھے وہ کیوں خاموش ہوگئے؟ کیوں لب کشائی نہیں کررہے ؟۔

انہوں نے کہا کہ ایک وفاقی وزیر نے وزیراعظم سے آرٹیکل ایک 149 استعمال کرنے کی درخواست کی ہے یہ نادان دوست آرٹیکل 148 اور 150 کا بھی مطالعہ کرلیں جو کہتے ہیں کہ صوبائی معاملات میں مداخلت نہیں کی جاسکتی۔ یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ کے دوست کراچی کا مقدمہ کب لڑینگے؟ سندھ کو اسکے حصے کے فنڈز پر کب کراچی کے وفاقی وزراء لب کشائی کرینگے ؟ وزیراعظم کے سامنے سندھ کے پانی کا مقدمہ کب رکھیں گے؟۔ خدارا اپنی ذمہ داری نبھائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کراچی کے عوام آپکے خلاف یوٹرن لے لیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نو ماہ کی بچی نشوا کے معاملے کی وزیراعلیٰ سندھ نے انکوائری کا حکم دیا ہے ہم صحت کے شعبے میں ریفارمز لارہے ہیں، ہیلتھ کیئر کمیشن اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراء کبھی عوام کی چیخیں نکالتے ہیں کبھی چھترول کرتے ہیں تو عوام جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا جمہور اور نہ ہی جمہوریت سے تعلق ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ قومی عجائب گھر اور صحت کے شعبوں کی وفاق کو منتقلی سے متعلق ہم عدالت سے رجوع کرچکے ہیں، تین ماہ ہوگئے وفاقی حکومت نے صحت کے ان تین شعبوں پر ایک روپیہ خرچ نہیں کیا۔

پولیس ایکٹ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا پولیس سندھ حکومت کا حصہ ہے، آئین پاکستان کہتا ہے کہ ادارے کی پالیسی حکومت نے بنانی ہے انہیں کیوں تعجب ہورہا ہے؟ پالیسی بنانا حکومت اور اسکو نافذ کرنا پولیس کا کام ہے۔ افسوس کہ اتنے وزراء کا تعلق کراچی سے ہونےکے باوجود اس شہر کی ترقی کے لئے کچھ کام نہیں کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں