ڈی آئی جی کی سفارش پر 11 ایس ایچ اوز تبدیل

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نقیب اللہ محسود کی میبنہ جعلی مقابلے میں ہلاکت کے بعد سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو عہدے سے ہٹانے کے بعد ڈی آئی جی ایسٹ زون کی سفارش پر ضلع ملیر کے 11 تھانوں سمیت مجموعی طور پر 13 تھانوں کے اسٹیشن ہاؤس افسران (ایس ایچ اوز) کو بھی تبدیل کردیا گیا۔

قائم مقام ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر آفتاب احمد پٹھان کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق سکھن، گڈاپ سٹی، سائٹ سپر ہائی وے، ابراہیم حیدری، سہراب گوٹھ، ملیر سٹی، مبینہ ٹاؤن، میمن گوٹھ، ملیر کنٹونمنٹ، اسٹیل ٹاؤن اور شاہ لطیف ٹاؤن کے تھانوں کے ایس ایچ او کو تبدیل کردیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق یہ تبدیلیاں ڈی آئی جی ایسٹ زون سلطان علی خواجہ کی سفارشات پر عمل میں لائی گئی ہیں۔ڈی آئی جی ایسٹ زون کی سفارش پر فیروزآباد اورگلستان جوہرتھانے کے ایس ایچ او کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔

نجی چینل کو ایک سنیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلع ملیر کے ایس ایچ اوز کو انکوائری ٹیم کی سفارشات پر تبدیل کردیا گیا ہے۔

ایس ایس پی افسران کے لیے رہنما احکامات کا اجرا
آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے تمام ایس ایس پیز کو رہنما احکامات جاری کرتے ہوئے ان پر ان کی روح کے مطابق عمل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

اے ڈی خواجہ کی جانب سے جاری احکامات کے یہ ہیں۔

1- پولیس دربار کا انعقاد فوری طور پر کیا جائے اور اس امر کے لیے فیڈنگ چارجز دیے جائیں گے کیونکہ پولیس مورال کا فروغ انتہائی اہم ہے، اے آئی جی لاجسٹکس کو فیکس ارسال کیے جائیں، دربار کے ریکارڈ کی تفصیلات لازمی طور پر سی پی او کو ارسال کی جائیں جس میں ایسے کسی دو ایونٹس کی تاریخیں شامل ہوں۔

2-شہدائے پولیس کے خاندان اور مرحومین پولیس کی بیواؤں کو ان کے مسائل کی سنوائی کے لیے ایک دن خصوصی طور پر دیا جائے۔

3-سنگین جرائم کو ختم کیا جائے۔

4-نیشنل ایکشن پلان کا جائزہ لے کر اس پر عمل درآمد کو مزید سخت کیا جائے اور بالخصوص بالائی سندھ پر زیادہ توجہ دی جائے۔

5-شہریوں کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔

6-پولیس موبائل کو پی او ایل کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

7-میڈیا سے تعلقات کو بہتر اور مستحکم بنایا جائے۔

8-اضلاع کے لحاظ سے سوشل میڈیا میکنزم تیار کیا جائے۔

9-اغواء اور اس جیسے دیگر جرائم سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔

10-اپنے اسٹاف کا خیال رکھیں اور میرٹ کو فوقیت دیں، جرائم کے خلاف یقینی کامیابی کے لیے تعلیم یافتہ اور اہلیت کے حامل ایس ایچ اوز کو پوسٹنگ دی جائے۔

11-ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش بذات خود مانیٹر کریں۔

12-تمام اضلاع میں عمارات کی مرمت، سی آر او اور آئی ٹی روم کی تیاری کے لیے مختص کردہ فنڈز کے تحت ان کی تعمیر کو بھی یقینی بنایا جائے۔

13-تمام گن مین اور گارڈز کی فہرست ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز کو ارسال کی جائے۔

14-اپنے اسٹاف کو جیوفینسنگ کی تربیت دی جائے۔

15-رات کی پیٹرولنگ سے ہائی ویز میں تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

16-کسی بھی قسم کی اسمگلنگ کے انسداد کو یقینی بنایا جائے۔

17-بلوچستان جانے والے تمام راستوں پر نمایاں افرادی قوت سے مانیٹرنگ کو غیرمعمولی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں