کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ایندھن میں بدلنے کا سستا طریقہ دریافت

نیویارک: ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں اور کاربن انجینئرنگ کمپنی نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ایندھن میں بدلنے کا سستا اورآسان طریقہ دریافت کرلیا ہے۔

مائیکروسافٹ کمپنی کے مالک بل گیٹس کے تعاون سے کام کرنے والی کاربن انجینئرنگ کمپنی نے کچھ سائنسدانوں کے ساتھ مل کر ایک پراجیکٹ تیار کیا ہے۔

ایجاد کردہ پراجیکٹ، ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ لے کر اسے ایندھن میں تبدیل کرتا ہے۔ اس ایندھن کو گاڑیوں اور جہازوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اس نئے پراجیکٹ کو تکمیل سے قبل تین مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ پہلے مرحلے میں ہوا سے کاربن گیس حاصل کرنے کے بعد اسے مائع میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

ایندھن بنانے کے لیے فیکٹری میں جمع شدہ مائع میں سے ترشہ اور اساس (ایسڈ اینڈ بیس) کو الگ الگ کرکے کاربن کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔

اس سے قبل جرمنی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرکے اسے ایندھن میں تبدیل کرنے کے لیے ایک کم خرچ پلانٹ لگایا گیا تھا۔

جرمن پراجیکٹ میں ایک میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تعدیل کرنے پر 500 سے 1000 ڈالرز خرچ ہوتے ہیں۔

امریکی پراجیکٹ کے زریعے ہوا سے ایک میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ نکالنے کے لیے 85 فیصد کم لاگت یعنی صرف 90 ڈالر خرچ آئے گا۔

نو برس کی مسلسل محنت کے بعد امریکی پراجیکٹ کی کامیابی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو باآسانی اورسستے داموں ایندھن میں بدلا جاسکے گا۔

ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مسلسل اخراج سے عالمی پیمانے پر تپش میں اضافہ ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں کمپنیاں ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی مقدار کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں