کراچی: ابراہیم حیدری کے اسکول میں 5 سالہ بچی کو مبینہ اغوا کی کوشش نا کام، علاقہ مکینوں نے اسکول کا گھیراؤ کر لیا

کراچی: کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری کے اسکول میں چوکیدار کی کم سن بچی سے مبینہ اغوا کو کوشش ناکام بنا دی گئی، واقعے کی اطلاع پر مشتعل علاقہ مکینوں کی ہنگامہ آرائی اور اسکول میں گھس کر توڑ پھوڑ کی جبکہ بچی کے والد نے زیادتی کی کوشش کی تردید کر دی۔

قصور واقعے کے بعد کراچی میں بچی سے زیادتی کی افواہوں پر علاقہ مکین مشتعل ہو گئے۔ ابراہیم حیدری کے نجی اسکول میں تین سالہ بچی کو چوکیدار نے چھونے کی کوشش کی۔ والدین شکایت لے کر پہنچے تو علاقہ مکین مشتعل ہو گئے۔ مشتعل علاقہ مکینوں نے اسکول میں گھس کر توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ اسکول کے چوکیدار کو لوگوں نے پکڑ لیا، علاقہ مکینوں نے اسکول کا گھیراؤ کر دیا۔

اطلاع ملنے پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری پہنچ گئی، معاملے پر میڈیا سے گفتگو میں بچی کے والد عامر نے زیادتی کی تر دید کی۔ بچی کے والد نے بتایا کہ بچی نے گزشتہ روز چوکیدار کی جانب سے چھونے کی کوشش کا بتایا جس پر آج شکایت لے کر آئے تھے تاہم علاقہ مکین مشتعل ہو گئے۔انہوں نے کہا وہ نہیں جانتے یہ کون لوگ ہیں اور ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ معاملے کی میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد وزیراعلی سندھ، سابق صدر آصف زرداری، وزیر داخلہ سندھ نے نوٹس لے لیا اور متعلقہ حکام سے رپورٹ بھی طلب کر لی۔

ایس ایس پی راؤ انوار کا کہنا ہے کہ بچی کے ساتھ کل اسکول کے چوکیدار عیدونے بدتمیزی کی تھی، بچی نے گھر جاکر والدین سے شکایت کی تھی۔ انہوں نے کہا بچی کے والدین نےآج صبح آکر اسکول میں چوکیدار کو مارنا شروع کر دیا مگر والدین نے کل واقعے کی اطلاع پولیس کو نہیں دی تھی، پولیس نے ملزم عیدو کو تحویل میں لے لیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں