کراچی میں صبیحہ خان کی کتاب”شعروسخن ہمارے“ کی رونمائی

صبیحہ خان ”خانوادہ¿ اردونیوز“کی ایک فعال رکن رہی ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہیں کہ سرزمین عرب پر اردونیوز نے آنکھ کھول کر جن کو دیکھا، ان میں محترمہ صبیحہ خان شامل تھیں۔ موصوفہ نہ صرف معیاری مصنفہ ہیں، مضمون و افسانہ نگاری کرتی اور تقاریب و ادبی محافل کی رودادیں سپرد قرطاس کرتی ہیں بلکہ وہ ایسی شاعرہ ہیں جن میں کسی نہ کسی مقدار میں ”پروینیت“ پائی جاتی ہے ۔ہماری یہ بات کس حد تک درست ہے، اس کے لئے وہی بات کہ ”ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے“، آپ صبیحہ خان کا کلام پڑھ کر دیکھ لیجئے۔
آج کل صبیحہ صاحبہ اردو نیوز میں کم کم دکھائی دے رہی ہیںاس کا سبب یہ ہے کہ وہ کینیڈا کو مسکنِ حیات بنا چکی ہیںجہاں ان کی گوناگوں مصروفیات ہیں تاہم انہوں نے اردونیوز سے ناتہ نہیں توڑا۔ فی الوقت محترمہ کراچی میں موجود ہیںجہاں آرٹس کونسل میں ان کی کتاب کی رونمائی کے لئے شایان شان تقریب منعقد کی گئی ۔ اس موقع پر صبیحہ خان نے اپنے احساسات کو یوں سپرد قرطاس کیا کہ :
”کچھ لمحے زندگی میں بہت اہم ہوتے ہیں جو ہمیشہ یاد رہتے ہیں ۔کراچی کی جن ادبی محافل میں شرکت رہی وہ بہت شاندار اور یاد گارتھیں جنہیں بھولا یا بھلایا نہیں جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ آج میری دوسری کتاب “شعروسخن ہمارے “کی بہت خوبصورت انداز میں رونمائی کی گئی۔ میرے لئے فخر اور اعزاز کی بات یہ بھی تھی کہ شہر کی اہم اور قدآورادبی شخصیات نے اس کتاب کو سراہا ، مضامین پڑھے اور اظہارِ خیال فرمایا۔
ایک اعزاز میرے لئے یہ بھی رہا کہ تقریب کی صدارت محمود شام نے کی ۔مہمان اعزازی پروفیسر ہارون رشید تھے ، میں مہمان خصوصی کی نشست پر موجود تھی ۔صغیر احمد جعفری ، اکیڈمی ادبیات کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو ،رضیہ سبحان صاحبہ ناسازی طبع کی بنا پرتشریف نہ لا سکیں ۔میں ڈاکٹر نزہت عباسی، سہیل احمد، حمیدہ کشش، ضیا شہزاد ، وقار زیدی،انیس جعفری ،محترمہ سلمیٰ خانم اور دیگر شرکائے محفل نشید آفاقی ، علی کوثر، تنویر حسین سخن عاشق شوکی ،منصور ساحر، افضل ہزاروی، تاج علی رانا، عبدالصمد تاجی، منصور ساحل، عرفان عابدی، مرینہ خان ،طاہرہ سلیم سوز ،مہر جمالی و دیگر کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے تقریب رونمائی میں شرکت کی۔یہ تقریب کیونکہ ایسے دن تھی جب اگلے ہی روز کراچی میں پی ایس ایل کا فائنل کھیلا جانے والا تھا۔ اس کے انتظامات کے باعث مختلف راستے بند تھے اور بہت سے لوگ تقریب میں شرکت کرنے سے رہ گئے۔ کچھ ایسے بھی تھے جوآدھے راستے سے لوٹ گئے۔
بہر حال تقریب رونمائی بہت پروقاراور شاندار تھی جس کے لئے میں آرٹس کونسل کے منتظمین، چیئر مین سہیل احمد، وائس چیئر مین وقار زیدی اور شہزاد ضیاکی شکر گزار ہوں جنہوں نے بحسن و خوبی اس تقریب کا اہتمام کیا۔

شہزاد اعظم۔جدہ …………………… بشکریہ اردو نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں