کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان پرپابندی ، ہندوستانی مضحکہ خیز خط!

ممبئی:ہندوستانی کرکٹ بورڈ کے حکام نے اپنے بورڈ کی جانب سے پاکستانی ٹیم کی ورلڈ کپ میں شرکت روکنے کے مجوزہ منصوبے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم کی ورلڈ کپ میں شرکت پر کسی بھی طرح پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔واضح رہے کہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہندوستانی فوجی ٹرک پرحملے کے بعد ہندوستانی انتہا پسندی رکنے کا نام نہیںلے رہی اور اب یہ جارحیت سفارتی سطح سے بڑھ کر کھیل سمیت دیگر شعبوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ ہندوستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایسی اطلاعات ہیں کہ ہندوستانی بورڈ کے معاملات چلانے کےلئے سپریم کورٹ کی جانب سے تعینات انتظامی کمیٹی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیئرمین کو ارسال کرنے کیلئے خط کا مسودہ تیار کر لیا ہے جس میں ان سے درخواست کی جائے گی کہ آئی سی سی پاکستان کی ورلڈ کپ 2019 میں شرکت پر پابندی عائد کرے۔ اس خط کے مسودے میں دھمکی بھی دی گئی ہے کہ اگر پاکستان کو ورلڈ کپ میں شرکت سے نہ روکا گیا تو ہند ٹورنامنٹ سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔یہ خط کمیٹی چیئرمین ونود رائے کوبھی دکھایا گیا ہے۔ ایک ہندوستانی عہدیدار نے ایسے کسی بھی قسم کے خط کی تیاری کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹ بورڈ یا اس کی انتظامی کمیٹی نے پاکستانی ٹیم کی شرکت پر پابندی کے حوالے سے کوئی خط تیار نہیں کیا اور اگر انہوں نے ایسا کیا بھی ہے تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اسے مسترد کر دے گی۔اس عہدیدار نے کہا کہ آئینی طور پر ایسا ممکن نہیں اور آئی سی سی کوالیفائی کرنے والے تمام اراکین کو اپنے ایونٹس میں شرکت کا اختیار دیتی ہے۔کھیل کے عالمی ضابطوں اور قوانین پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین نے بھی ہند کی اس کوشش کو خام خیالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندچاہے کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لے، وہ پاکستان کو ایونٹ میں شرکت سے نہیں روک سکتا۔کرکٹ کے عالمی منظر نامے پر گہری نظر رکھنے والے مشہور کرکٹ ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ہندوستانی کرکٹ بورڈ اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ کھیل کی گورننگ باڈی سے عالمی ایونٹ میں کسی ملک کی شرکت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرنے کی بات صرف کہنا آسان ہے، ایسے ایونٹ میں کئی ممالک شریک ہوتے ہیں لہٰذا کسی ایک ملک کی ایما پر فیصلے نہیں لئے جا سکتے اور خود کو بے وقوف بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔آئی سی سی کے تمام بورڈ اراکین کی ورکشاپ 24 سے 26 فروری تک دبئی میں ہوگی جہاں معاملے پر بات چیت متوقع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں