کم جونگ ان امریکا سے گفتگو،جنوبی کوریا سےاتحاد پر تیار

شمالی کوریا نے کہا ہے کہ جوہری مواد کی تخفیف سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پرامریکا سے مذاکرات کیلئے تیارہیں ،جبکہ اس بات چیت کے دوران ایٹمی یا میزائل تجربات معطل رکھے جائیں گے۔

اس بات کا انکشاف جنوبی کوریا کے وفدنے شمالی کوریا کے دورے کے بعد واپس سیول پہنچنے پر کیا، جنوبی کوریا کے وفد نے اپنے دورے کے دوران شمالی کوریا کے صدر اورسپریم لیڈر کم جونگ آن سے بھی ملاقات کی ۔

ملاقات میںکم جونگ اُن کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کا دوبارہ اتحاد کر کے نئی تاریخ رقم کرنا چاہتے ہیں،وہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں بھرپور اضافہ اور مضبوطی دیکھنا چاہتے ہیں۔

شمالی کوریا کا دورہ کرنے والے جنوبی کوریا کے دس رکنی وفد کے اعزاز میں پیانگ یانگ میں عشائیہ دیا گیا ، کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کے وفد سے مختلف امور پر تبادلہ خیال بھی کیا ۔

جنوبی کوریا کے وفد نے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں بہتری اور مذاکرات سے متعلق ایک قرار داد بھی پیش کی ۔

جنوبی کوریا کے وفد کے سربراہ چنگ اوئی یونگ نے سیول پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ تیکنکی طور پر دونوں ممالک اب بھی حالت جنگ میں ہیں لیکن سرمائی اولمپکس کے بعد کشیدگی میں واضح طور پرکمی واقع ہوئی ہے اور اگلے ماہ سرحدی گائوں پین مون جوم میںدس سال بعد شمالی اور جنوبی کوریا کااعلیٰ سطح کا اجلاس بھی ہوگا۔

ان کا مزید کہناتھا کہ شمالی کوریا نے واضح طور پرجوہری مواد سے پاک جزیرہ نما کوریا کی خواہش کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ شمالی کوریا کو ملٹری ایکشن کی دھمکیوں کا معاملہ اور جزیرہ نما کو محفوظ رکھنے کا حل سامنے آنے پر ایٹمی پروگرام کی حقیقتاً کوئی ضرورت نہیں ہوگی ۔

جنوبی کوریا کے وفد کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ شمالی کوریا نے امریکا کے ساتھ تمام تصفیہ طلب معاملات پر مذاکرات کے دوران کسی قسم کے جوہری یا میزائل تجربہ کرنے سے بھی انکار کیا ۔

واضح رہے کہ پچھلے سال نومبر سے شمالی کوریا نے ایٹمی یا میزائل کا تجربہ نہیں کیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں