کوئٹہ، ہزار گنجی میں دھماکا، 20افراد جاں بحق، 40 زخمی

کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے، تقریباً 40 افراد زخمی بھی ہوئے، جاں بحق افراد میں ایف سی کا افسر اور 2 بچے بھی شامل ہیں، تمام افراد سبزی اور فروٹ منڈی سے سبزیاں خرید کر واپس آرہے تھے۔

کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں ہونیوالے دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جب کہ لاشوں اور زخمیوں کو بولان میڈیکل کمپلیکس اور دیگر اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا، شہر کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

سیکیورٹی فورسز کے مطابق دھماکے کا اصل ہدف ہزارہ کمیونٹی کے ایک رکن کی کار تھی، تاحال دھماکے کی نوعیت سے متعلق نہیں بتایا گیا کہ دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا یا گاڑی پر پھینکا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اتنی شدید نوعیت کا تھا کہ دور دور تک سنا گیا، دھماکے سے قریبی عمارتوں، دکانوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

پولیس کے مطابق جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کا تعلق ہزارہ برادری سے ہے، جو پولیس سیکیورٹی کے ہمراہ سبزی منڈی سے اپنے کاروبار کیلئے سبزیاں خرید کر واپس آرہے تھے۔ ڈی آئی جی کوئٹہ کی جانب سے جاں بحق افراد کی تصدیق کردی گئی ہے۔ ڈی آئی جی کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ایک سیکیورٹی اہل کار بھی شامل ہے۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ دھماکا سبزی منڈی کے وسط میں موجود آلو کی دکان کے باہر ہوا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی جانب سے علاقے میں مزید کسی دوسرے بم کی موجودگی کے تناظر میں کلیئرنس آپریشن بھی کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، انہوں نے واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے زخمی افراد کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمی افراد کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پُرامن ماحول کو خراب کرنے کی سازش کو ناکام بنانا ہوگا، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کے دشمن دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں ہے۔

ہزار گنجی دھماکے میں کئی قیمتی جانوں کے ضیاع پر ہزارہ برادری نے مغربی بائی پاس پر احتجاج کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں