کہوٹہ میں نڑھ پنج پیر میں محکمہ وائلڈلائف پنجاب اور محکمہ جنگلات کی طرف سے یو این ڈی پی آگہی پروگرام کے سلسلہ میں منعقدہ ایک تقریب

راولپنڈی (سنہرا دور): جنگلی حیات و جنگلات ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور علاقے کے لوگوں میں ان کے تحفظ و حفاظت کا شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں دونوں محکمے اپنے طور پر ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں مگر متعلقہ علاقوں کے با اثر عوامی نمائندوں اور مقامی آبادی کو اس نیک کام میں شامل کئے بغیر مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن نہیں۔علاقے کی تیزی سے معدوم ہوتی مقامی جنگلی حیات کے بچاؤ ، حفاظت اور بحالی کے لئے ہم سب کو اپنی اخلاقی و قومی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ ان خیا لات کااظہار راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ میں نڑھ پنج پیر میں محکمہ وائلڈلائف پنجاب اور محکمہ جنگلات کی طرف سے کمیونٹی آگہی پروگرام کے سلسلہ میں منعقدہ ایک تقریب میں کیا گیا جس میں ڈویژنل فارسٹ افسر راولپنڈی ناتھ سرکل چوہدری عبدل رزاق نے سسٹین ایبل فارسٹ مینجمنٹ پراجیکٹ کی غرض و غائت بیان کی جبکہ پروفیسر ڈاکٹر مقصود انور نے علاقے میں پائے جانے والے ہرن ککڑ (بارکنگ ڈیئر)، ڈبلیو ڈبلیو ایف کے محمد وسیم نے تیندوے، ڈاکٹر طارق محمود نے پینگولین (سلا) اور ڈاکٹر امتیاز احمد نے زوناٹیکل ڈیزیز بارے آگہی فراہم کی۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ وائلڈ لائف افسر راولپنڈی رضوانہ عزیز، ڈیسٹرکت وائلڈ لائف افسر اٹک چوہدری منظور اور ریسورس پرسن یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام محمد فیروز بھی موجود تھے۔ جبکہ علاقے کے مقامی لوگوں نے خواتین سمیت سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی۔ ایرڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر امتیاز احمد نے زوناٹیکل ڈیزیز کے بارے میں بتایا کہ شکار کردہ جنگلی جانوروں کا گوشت کم سے کم استعمال کریں تاکہ ہم مختلف بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ شکار کردہ جانور کس بیماری میں مبتلا تھا اور اس کے گوشت میں کون سے خطرناک جرثومے موجود ہیں۔ ۔ انہوں نے کہا کہ جانور ماحول کے دشمن نہیں بلکہ ہم انسان ہی ماحول کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور قدرت کے قائم کردہ توازن کے بگاڑ میں ہر وقت مصرف رہتے ہیں۔ڈویژنل فارسٹ افسر نارتھ سرکل راولپنڈی چوہدری عبدالرزاق نے کہا کہ مقامی آبادی کا فرض ہے کہ وہ جنگلوں کی حفاظت کے لئے محکمہ کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ جنگلوں کی خوبصورتی اور رونق جنگلی حیات کے ہی باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں موجود جنگلات اور جنگلی حیات علاقے کے لوگوں کی اپنی ہے اور انہیں کسی بھی قسم کا نقصان پہنچنے کی صورت میں علاقے کے لوگ ہی سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ پروفیسر ڈاکٹر مقصود انور نے کہا کہ پاکستان میں ککڑ (بارکنگ ڈیئر) کی نسل کو شدید خطرات کا سامنا ہے اور غیر قانونی شکاری صرف اپنے شوق کی تسکین ، گوشت اور کھال کے حصول کے لئے اس کا بے دریغ شکار کر رہے ہیں جو کہ علاقے کے لوگوں کے لئے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے اور انہیں اس نسل کے خاتمے سے سب سے زیادہ نقصان مقامی لوگوں کا ہی ہو گا۔ انہوں نے مقامی لوگوں کو اس کی اہمیت بتاتے ہوئے کہ انہیں چاہیئے کہ وہ جنگلات کی کٹائی کی روک تھام اور اس کی نسل کی حفاظت میں محکمہ کا ساتھ دیں۔ ڈاکٹر طارق محمود نے علاقے میں پائے جانے والے پینگولین(سلا) کے بارے میں بتایا کہ یہ بے ضرر جانور ہے اور اپنی گذر بسر فصلوں کو نقصان پہنچانے والی چیونٹیوں ، دیمک اور کیڑے مکوڑوں کوکھا کر کرتا ہے۔ اس کی دنیا میں 8 انواع ہیں اور پاکستان میں اس کی صرف ایک قسم پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جوان پینگولین ایک سال میں 70 ملین سے زائد دیمک اور کیڑے مکوڑے کھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کا فرض اور فائدہ اسی میں ہے کہ وہ اس بے ضرر جانور کی نسل کشی کو ترک کریں اور اس کے تحفظ میں محکمہ کا ساتھ دیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے محمد وسیم نے علاقے میں پائے جانے والے تیندوے(کامن لیپرڈ) کے بارے میں آگہی فراہم کی کہ اس جانور کی نسل تیزی سے معدوم ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر علاقے کے لوگ ککڑ (بارکنگ ڈیئر) کے غیر قانونی شکار میں محکمہ کا ساتھ دیں تو تیندوا کبھی بھی ان کے جانوروں پر حملہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی نظام میں توازن برقرار رکھنے میں علاقے کے لوگ تعاون کریں تاکہ تیندوا جنگل میں موجود اپنی خوراک پر زندہ رہ سکے۔ عوام آگہی مہم کی تقریب کے اختتام پر علاقے کے لوگوں نے ماہرین سے بعض اہم امور پر سوالات بھی کئے جس کا انہیں سیر حاصل جواب دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں