کینسر سے بچنے کے سات طریقے

انسان کی زندگی میں ایسے چند طریقے ہیں جن کو اپنا کر اس موذی مرض سے جان بچائی جاسکتی ہے

لاہور (سنہرادور آن لائن ) کینسر سے بچاؤ کے بارے میں مختلف طرح کی رپورٹس آتی رہتی ہیں اور مختلف طرح کی تجاویز پڑھ کر قاری ابہام کا شکار ہو جاتا ہے۔ کچھ رپورٹس کسی ایک قسم کے کینسر سے بچنے کی ٹپس پیش کرتی ہیں جبکہ دوسری کسی دوسرے سے بچنے کا طریقہ بتاتی ہے۔ یوں مختلف یا متضاد تجاویز سامنے آتی ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ کینسر سے بچاؤ پر تحقیق مسلسل جاری ہے جس کے نتائج ضروری نہیں ایک جیسے ہی ہوں۔کچھ باتوں پر بہر حال کافی حد تک اتفاق رائے موجود ہے ۔
مثلاً زندگی گزارنے کے صحت مند طریقوں پر عمل کرنے سے کینسر سے بچا جا سکتا ہے۔ اس لیے اگر ضروری ہے تو زندگی گزارنے کے طریقوں کو بدلنے کی کوشش کیجیے مگر یہ جان لیجیے کہ یہ تبدیلی کیسی ہونی چاہیے۔ سات تبدیلیاں یا ٹپس ایسی ہیں جو کینسر سے محفوظ رکھنے میں خاصی معاون ہیں۔

تمباکو نوشی مت کریں:تمباکو نوشی اور کینسر کا قریبی تعلق ہے۔ تمباکو نوشی سے مختلف طرح کے کینسر ہوتے ہیں۔ ان میں پھیپھڑوں کا کینسر، منہ کا کینسر، گلے کا کینسر، نرخرے کا کینسر، پتے کا کینسر، مثانے، گردے اور رحم کا کینسر شامل ہیں۔ تمباکو چبانے سے درون دہن اور گردے کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ہم تمباکو استعمال نہیں کرتے اور صرف اس کے دھویں کو سونگھتے ہیں تو بھی اس سے پھیپھڑوں کے کینسر کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ گھروں، دفاتر اور عوامی مقامات پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ دوسروں کی پروا کیے بغیر سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے ان کی اپنی صحت کو تو نقصان پہنچتا ہی ہے، اس دھوئیں کو سانس کے ذریعے پھیپھڑوں تک لے جانے والے بھی خطرات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے تمباکو نوشی سے پرہیز بہت ضروری ہے۔ کسی انسان کی زندگی میں اسے ترک کرنا اہم ترین فیصلہ ہو سکتا ہے۔

صحت مند خوراک کا استعمال:خوراک کا انتخاب احتیاط سے کرنا چاہیے۔ یہ خیال رکھنا چاہیے کہ خوراک متوازن اور صحت بخش ہو اور اس میں جسمانی ضروریات کے تمام اجزا موجود ہوں۔ اس بارے میں مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ زیادہ پھل اور سبزیاں: خوراک میں پھلوں اور سبزیوں کو بنیادی عنصر کے طور پر شامل کریں۔ اسی طرح پراسسڈ خوراک کی بجائے مکمل اناج (ہول گرین) استعمال کریں۔

موٹاپا: اتنا نہ کھائیں کہ موٹاپا آپ کو لپیٹ لے، اور ایسی خوراک سے پرہیز کریں جو موٹاپے کا باعث بنتی ہے۔ نیز یاد رکھیں کہ الکوحل کا استعمال مختلف طرح کے کینسر کا باعث بنتا ہے۔ پراسسڈ گوشت: عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق زیادہ مقدار میں جانوروں کاپراسسڈ گوشت کھانے سے چند اقسام کے کینسر کا امکا ن بڑھ جاتا ہے۔ جسمانی سرگرمی اور مناسب وزن:وزن کو منا سب رکھنے سے مختلف طرح کے کینسر سمیت دیگر بیماریوں کے دور رہنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ان میں چھاتی، پروسٹیٹ، پھیپھڑوں، گردوں اور بڑی آنت کا کینسر شامل ہے۔ اسی کے ساتھ جسمانی سرگرمی بھی نہایت اہم ہے۔ اس سے نہ صرف وزن کنٹرول ہوتا ہے بلکہ اس سے چھاتی اور بڑی آنت کے کینسر کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ جسمانی سرگرمی یا ورزش کے دیگر بھی کئی فوائد ہیں۔ ہفتے میں کم از کم 150 منٹ تک درمیانی مشقت کی ورزش یا 75 منٹ کی سخت ورزش کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر روزانہ آدھا گھنٹہ ورزش کے لیے مخصوص کر دیا جائے تو بہتر رہے گا۔

سورج سے بچنا:جلد کا کینسر بھی خاصا عام ہے۔ اس سے بچا جا سکتا ہے۔ صبح دس بجے سے سہ پہر چار بجے تک سورج کی شعائیں بہت تیز ہوتی ہیں۔ اس دوران غیر ضروری طور پر دھوپ میں نہ رہیں اور سورج کی شعاؤں سے بچیں۔ سورج کی روشنی میں جاتے ہوئے مکمل لباس پہنے رکھیں اور زیادہ ہلکے یا زیادہ گہرے رنگ کے کپڑے پہنیں جو الٹراوائیولٹ شعاؤں کو منعکس کرتے ہیں۔ ویکسین:کچھ اقسام کی وائرل انفیکشنز سے بچاؤ بھی کینسر سے بچاؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

ہیپاٹائٹس بی: ہیپاٹائٹس بی سے جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے بعد اس کی ویکسینیشن کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح ایچ پی وی (Human papillomavirus) وائرس کی ویکسین بھی ڈاکٹر سے مشورے کے بعد استعمال کی جا سکتی ہے کیونکہ یہ وائرس کینسر کا باعث بنتا ہے۔

کردار میں توازن:ایسے افعال سے گریز کرنا چاہیے جو ایچ آئی وی یا ایڈز کا باعث بنتے ہیں۔ ان میں سرنجوں اور بلیڈ کا لاپرواہی سے استعمال بھی شامل ہے۔ حجامت کراتے وقت صاف، جراثیم سے پاک آلات اور نئے بلیڈ کا استعمال کرنا چاہیے۔ نیزدانتوں کا علاج ایسی جگہ سے کرانا چاہیے جہا ں ماحول صاف ہو اور آلات جراثیم سے پاک ہوں۔ اس حوالے سے اگر احتیاط نہ کی جائے تو ایچ آئی وی ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی موذی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔جن کی وجہ سے کینسر کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

صحت کا خیال:اپنا جائزہ خود لیتے رہنا چاہیے۔ کچھ کینسر ایسے ہیں جن سے ہم اس جائزے کے ذریعے بچ سکتے ہیں۔ مثلاً جلد، بڑی آنت، رحم اور چھاتی کا کینسر کیونکہ ان کی علامات کا کچھ اندازہ ہو جاتا ہے۔ اگر ایسے اشارے ملیں تو فوراً ڈاکٹروں سے رجوع کرنا چاہیے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں