کینسر کا علاج اب ویکسین سے ہوسکے گا ممکن؟

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک): کینسر ایسا جان لیوا مرض ہے جس کے نتیجے میں ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں اموات ہوتی ہیں جبکہ اس کا علاج یا کیموتھراپی مختلف طبی مسائل کا باعث بنتی ہے۔ تاہم اب ایسی کینسر ویکسین تیار کرلی گئی ہے جس سے چوہوں میں خون کے سرطان کا علاج آزمائشی مراحل میں کامیاب رہا اور رواں سال کے آخر میں اسے انسانوں پر آزمایا جائے گا۔ اس ویکسین کی تیاری پر کام امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے کیا۔تحقیق کے مطابق اس ویکسین کو اگر انسانوں کے لیے کارآمد قرار دیا گیا تو مریضوں کو کیموتھراپی کی ضرورت نہیں ہوگی جس کے صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم محققین کا کہنا تھا کہ اس کو استعمال کرنے کی منظوری ملنے پر بھی یہ ایک سے 2 سال تک مریضوں کے لیے دستیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ خون کے ایسے سرطان کے لیے موثر ثابت ہوگی جو کہ خون کے مخصوص سفید خلیات کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ویکسین جسمانی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کی بجائے اسے رسولیوں پر حملے کے لیے متحرک کرتی ہے۔ تحقیقی ٹیم کا کہنا تھا کہ کینسر بہت بڑا مسئلہ ہے اور ہمیں اس وقت تک اطمینان نہیں ہوگا جب تک ہر ایک کے لیے اس کا حل تلاش نہیں کرلیتے۔ اس ویکسین کو رواں سال کے آخر میں 2 مختلف طبی مطالعہ جات میں 35 لمفی بافتوں کی رسولی کے شکار افراد پر آزمایا جائے گا۔ ان مریضوں پر ریڈی ایشن کی کم مقدار کے ساتھ 6 ہفتوں میں 2 بار ویکسین کا استعمال کرایا جائے گا۔ اس سے قبل چوہوں میں اس کا تجربہ 97 فیصد تک کامیاب ثابت ہوا۔ محققین نے بتایا کہ اب تک کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ ویکسین مختلف اقسام کے کینسر کے علاج اور اسے دوبارہ پھیلنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سائنس ٹرانسلیشن میڈیسین میں شائع ہوئے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں