گاجر غذائی اجزا کا خزانہ

واشنگٹن: امریکی ماہرین صحت نے کہا ہے کہ گاجر غذائی اجزا کا خزانہ ہے اور اس کا رس معدے کے کینسر،خون کی کمی کا تدارک، چھاتی کے سرطان سے بچاﺅ، سانس اور پھیپھڑوں کے امراض سے بچاﺅ سمیت کئی امراض کے علاج میں مددگار ہے۔ ہاورڈ یونیورسٹی کے شعبہ صحت کے ماہرین کی جدید تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ گاجر غذائی اعتبار سے یہ مہنگے ترین پھلوں کی ہم پلہ ہے۔ اس کا رس دیگر پھلوں کے رس کے ساتھ مل کر ان کا ذائقہ اور افادیت بڑھا دیتا ہے۔ ایک کپ گاجر کے رس میں 94 کلوکیلوریز غذائیت ہوتی ہے۔ گاجر اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جس کے مسلسل استعمال سے معدے کے سرطان کے امکانات 26 فیصد تک کم ہوجاتے ہیں۔ گاجروں میں کیروٹینوئیڈز کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو خون کی کمی کے خلیات (سیلز) کو ختم کرنے اورچھاتی کے کینسر کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکتی ہے۔ اس کے علاوہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خون میں کیروٹینوئیڈز کی مقدار جتنی زیادہ ہوگی۔ بریسٹ کینسر کے لوٹنے کا خطرہ اتنا ہی کم ہوجاتا ہے۔ گاجر کا رس وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے اور یہ سانس کے ایک مرض کرونک اوبسٹرکٹیو پلمونری ڈیزیز(سی او پی ڈی) کی شدت کم کرتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں