گلگت بلتستان: عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کی کال پر ٹیکس کے خلاف مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال

سنہرا دور: گلگت اور سکردو بھر کی تمام دکانیں ، مارکیٹس اور تجارتی مراکز بند رہے. پہیہ جام ہڑتال کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ بند رہی. این ایل آئی مارکیٹ میں انتظامیہ اور عوامی ایکشن کمیٹی آمنے سامنے آگئے. رینجر، جی بی سکاؤٹس کی بھاری نفری الرٹ رہی.

شگر ، خپلو ، کھرمنگ اور روندو سمیت تمام علاقوں میں مکمل ہڑتال رہی. سڑکوں پر ٹرہفک نہ ہونے کے برابر رہی.
تاجروں کا مطالبات تسلیم نہ ہونے پر گلگت کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کردیا گیا.
تفصیلات کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی اور مرکزی انجمن تاجران گلگت بلتستان کی کال پر جمعرات اور جمعہ کے روز گلگت بلتستان بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال رہی. گلگت کشروٹ میں دس پندرہ دکانوں کے علاوہ تمام دکانیں ، مارکیٹ اور تجارتی مراکز بند رہے. جبکہ دوسری طرف پہیہ جام ہڑتال کی وجہ سے گلگت اور سکردو سے دیگر اضلاع جانے والی مسافر گاڑیاں بھی نہیں چلیں. گلگت سکردو سے راولپنڈی رینٹ اے کار سروس بھی بند رہی. گھڑی باغ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کے سربراہ مولانا سلطان رئیس نے بتایا کہ ہم نے کسی دکاندار کو زبردستی دکانیں بند کرنے کا نہی بتایا. جبکہ عوام میں شعور آگیا ہے اور اب مسلم لیگ ن اور انتظامیہ کی ہر کوشش ناکام ہوگی. اگر جی بی کی صوبائی حکومت مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو وہ اڈاپٹیشن ایکٹ 2012 ختم کیوں نہیں کررہی. انہوں نے کہا کہ اب یہ تحریک کوئی بھی نہی روک سکے گا. انجمن تاجران سکردو کے صدر غلام حسین اطہر نے یادگار چوک سکردو پہ ایک بہت بڑے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پورے گلگت بلتستان کی عوام نے جس ثابت قدمی کے ساتھ شٹر ڈاؤن ہڑتال ، پہیہ جام اور جلسہ جلوس کیا اس طرح مزید کچھ روز اپنے حقوق کے لیے ڈٹے رہیں تو بہت جلد انشاءاللہ کامیابی نصیب ہوگی. مزید برآں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آغا علی رضوی نے کہا کہ کمشنر بلتستان ریاست کے ملازم بن کر رہیں تو بہتر ہوگا ، زبردستی دکانیں کھلوانے کی کوشش کی تو بلتستان سے نکال باہر کریں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں