”گوادر ایئرپورٹ کے ساتھ کوئٹہ تک ریلوے ٹریک بھی“

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گوادر شہر سے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ تک ریلوے ٹریک بچھایا جائے گا اور اس کےلئے بھی چین سے مدد لی جا رہی ہے ۔
جمعے کو بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایئرپورٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی میں بلوچستان کی ترقی سے مقامی لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچا ۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’گوادر میں صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے اور ماہی گیروں کے لیے گرانٹ کا بھی اعلان کرتا ہوں۔‘ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں ریلوے پھیل رہی ہے اور بدقسمتی سے پاکستان میں اس کے ٹریک کم ہوئے ہیں ۔ 
وزیراعظم نے کہا کہ اپریل میں چین کا دورہ کروں گا۔ ’چین سے کئی شعبوں میں معاونت حاصل کریں گے۔‘
سرکاری میڈیا کے مطابق وزیراعظم نے اپنے دورہ بلوچستان میں کوئٹہ ژوب شاہراہ سمیت متعدد دیگر منصوبوں کا بھی سنگ بنیاد رکھا ہے ۔ 
 گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ چین کے تعاون سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ ایئرپورٹ اے ٹی آر 72، ایئربس اے-300، بوئنگ 737 اور بوئنگ 747 جیسے بڑے مسافر طیاروں کی لینڈنگ کی گنجائش موجود ہو گی۔
گوادر شہر سے 26 کلومیٹر مشرق میں واقع گورندانی کے علاقہ میں بنائے جانے والے ائیر پورٹ کے منصوبہ کی مالیت 23 کروڑ ڈالر ہے اور چین اس منصوبے کے لیے فنڈ فراہم کر رہا ہے۔ 
اسلام آباد میں چین کے سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن لی جیان ژا نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نیوگوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے سنگ بنیادپر ہم آپ کو ایک الگ گوادر پورٹ دکھائیں گے۔
پاکستان کے سول ایوی ایشن کے ایک اہلکار نے اردو نیوز کو بتایا کہ گوادر ایئرپورٹ رقبہ کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا ایئر پورٹ ہوگا۔
وزیراعظم اپنے دورے کے دوران گوادر ایکسپو کی اختتامی تقریب میں بھی شرکت کی اور چین کے ساتھ گوادر میں ووکیشنل ٹریننگ سنٹر اور اسپتال کی تعمیر کے منصوبوں کے معاہدے پر بھی دستخط کیے۔
صحافی اور معاشی تجزیہ نگار شاہد رند نے عرب نیوز کو بتایا کہ گوادر کو ایک انٹرنیشنل شہر کی حیثیت سے تعمیر کیا جارہا ہے اور یہاں ایک انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی بڑی اشد ضرورت ہے۔ 
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے وزیر اعظم ایسے اقدامات کریں گے جس سے انہیں سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ 
شاہد رند کے مطابق گوادر کے اہم مسائل میں پانی کی قلت اور مقامی مچھیروں کے لیے سہولتوں کا فقدان شامل ہے۔ 
ان کے مطابق شہر کی ترقی کے بعد غیر مقامی لوگوں کے آنے سے گوادر میں آبادی کا تناسب بھی مقامی لوگوں کے لئے ایک اہم خدشہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں