’ہماری حکومت گرانے کی جلدی ہے کہ انھیں جیل جانے کا ڈر ہے‘

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ  ’حزب اختلاف کی جماعتوں کو اس لیے  ہماری حکومت گرانے کی جلدی ہے کہ ان کے رہنماؤں کو جیل جانے کا ڈر ہے۔‘
اتوار کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد اپنے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے حزب اختلاف کی جماعتوں پر تنقید کی اور کہا کہ پاکستان کے برے معاشی حالات کی وجہ ماضی کے حکمرانوں کی لوٹ مار ہے۔
عمران خان نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف، سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خاندانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے تینوں بڑے خاندانوں نے سارا پیسہ چوری کرکے ملک سے باہر بھیج دیا، اس طرح کونسا ملک چل سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا’اب ہم روز نئی چیزیں ڈھونڈ رہے ہیں اور ہمیں ہر روز نئی چیزیں مل رہی ہیں اس لیے یہ گھبرائے ہوئے ہیں ا ور ان کی کوشش ہے کہ جلدی سے عمران خان کی حکومت گرائیں کیونکہ ان سب نے جیل چلے جانا ہے۔’
اپنے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ’ہم اپنی پانچ سالہ مدت پوری کریں گے اور دکھائیں گے کہ قرضے کم ہوئے یا بڑھ گئے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے ملک کے ساتھ جو کیا وہ دشمن بھی نہ کریں۔ سنہ 2008 سے 2018 تک قرضے چھ ہزار ارب روپے سے 30 ہزار روب رپے تک پہنچادیے گئے۔ ٹیکس کی مد میں ملک میں ساڑھے 4ہزار ارب روپے جمع ہوتے ہیں جن میں سے دو ہزار ارب روپے ان قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے باقی دو ہزار ارب روپے صوبے لے جاتے ہیں۔1700 ارب روپے سکیورٹی کی مد میں چلے جاتے ہیں۔ وفاقی حکومت کا خزانہ 700 ارب روپے کے خسارے سے شروع ہوتا ہے۔ 
عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے بارےمیں کہا کہ  پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ عام آدمی کی ضرورت کے پیش نظر بنایا گیا ہے ۔ ’تنخواہ دار طبقے کی کرپشن کی بڑی وجہ  بھی یہ ہے کہ ان کی تنخواہوں سے گھر نہیں بن سکتے اس لیے ہم انہیں گھر بنا کر دے رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ پچاس لاکھ گھر نہیں بن سکتے ۔ پانچ سال بعد ہوسکتا ہے کہ پچاس لاکھ گھروں سے بھی زیادہ بن جائیں۔
وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ’ہم غریب اور کمزور طبقے کو اٹھائیں گے اور اسی اصول کی بنیاد پر ریاست مدینہ نے اپنے وقت کی عظیم طاقتوں کو گرایا۔‘
عمران خان نے کوئٹہ پہنچتے ہی بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز میں وفاقی وزراء ، گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ ہزارہ برادری کے ایک وفد سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے ہزارہ برادری سمیت ہزارگنجی بم دھماکے کے متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا اور فاتحہ پڑھی۔
کوئٹہ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم عمران خان بلوچستان سے ہی ایران کے دو روزہ دورے پر روانہ ہوئے جہاں وہ ایرانی صدر سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں