ہوسکتا ہے کچھ وزراء کو ہٹا دیں، وزیراعظم کی سینئر صحافیوں سے گفتگو

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وزرا کی کارکردگی جائزہ لے رہے ہیں ،ہوسکتا ہے کچھ وزرا ءکو ہٹا بھی دیں، 100 روز میں سارے وزراء نے مجھے رپورٹ دی ہے کہ اب تک انہوں نے کیا کیا،کارکردگی دیکھ کر ممکن ہے وزرا کو تبدیل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے 100دن میں جتنا کام کیا اتنا ساری زندگی نہیں کیا،موجودہ حالات میں جتنی محنت کی ہے اتنی محنت پوری زندگی میں نہیں کی۔

سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اعظم سواتی کے معاملے پرعدالتی فیصلے پرعمل کریں گے، اعظم سواتی کے معاملے پرجے آئی ٹی میں مداخلت نہیں کی، کسی کوتحفظ دینے کے لیے کوئی مداخلت نہیں کریں گے،سی ڈے اے میرے ماتحت ہے، کیا میں مداخلت نہیں کرسکتاتھا؟ بابراعوان نے خود اپنے عہدے سےاستعفا دیا،اگر اعظم سواتی کی غلطی ہوئی تو وہ خود استعفا دیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ عثمان بزدار کو شکایت ملی کہ کسی نے بشریٰ بی بی کی بیٹی سےناروا سلوک کیاہے،کیا چیف ایگزیکٹو عثمان بزدارکسی پولیس افسرکوبلاکرپوچھ نہیں سکتا؟ عثمان بزدار جیسا وزیراعلیٰ پنجاب کو کبھی ملا ہی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انفارمیشن چھپانے کی کوشش وہ کرتاہےجو خوفزدہ ہوتاہے، میری خواہش ہے کہ ہماری حکومت اتنی شفاف ہو کہ پہلے ایسی حکومت نہ آئی ہو، اگرمیرا کوئی وزیرغلط کام کرتا ہے توچاہتا ہوں وہ بے نقاب ہو۔

حکومت کے سو دن سے متعلق ایک سوال پر وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اگرپل بھی بناتے ہیں تو وہ 100 دن میں نہیں بنتا، ایک ایسا سسٹم چاہتےہیں جس میں نچلے طبقے کے لئے پالیسیاں ہوں، ہیلتھ کارڈ سارے پاکستان میں لے کر آرہےہیں، سرکاری اسپتالوں کوبہتربنانےپرکام کررہے ہیں۔

ایک سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ مرغی اورانڈے کی بات پربہت شورمچایا گیا، بل گیٹس نےجب مرغی اورانڈے کی بات کی تواس کوسراہا گیا،اُن کا کہنا تھا کہ حلال گوشت کا ٹریڈ دو ہزار ارب کا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت میں اچانک اضافے کا میڈیا سے پتا چلا، میکنزم بنارہے ہیں کہ اسٹیٹ بینک حکومت کو بتائے بغیر روپے کی قدر کم نہ کرسکے، انہوں نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ اس ملک میں ڈالروں کی کمی نہیں ہوگی ۔

اسٹیٹ بینک خودمختار ادارہ ہے،اسٹیٹ بینک نے معاشی صورتحال کے باعث ڈالر بڑھانے کا فیصلہ کیا، اسٹیٹ بینک نےاپنی سمجھ کےمطابق معاشی حالات کے باعث روپے کی قدرکم کی، ن لیگ حکومت نےروپےکی قدرمصنوعی طورپربرقراررکھی جسکی وجہ سے 7 ارب خرچ ہوئے، ہمارے دور میں دوبار روپے کی قدرگری ہے، دونوں بار خبروں کےذریعے پتا چلا کہ روپےکی قدرگری ہے، زرمبادلہ کےذخائر بچانےکے لئے ڈالر کی قدر میں اضافہ عارضی اقدام ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کرتار پور راہدری سے متعلق وزیر خارجہ کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ’ یہ فیصلہ گوگلی نہیں تھی بلکہ سیدھا سادہ فیصلہ تھا، شاہ محمود کا مطلب تھا کہ بھارت میں الیکشن آرہے ہیں، وہ پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کررہا ہے لیکن ہم نے نفرت پھیلانےکا منصوبہ روکنے کے لیے کرتارپور کوریڈور کھولا ہے لہٰذا نفرت پھیلانے کا منصوبہ ناکام بنانے کو گوگلی کہہ سکتے ہیں لیکن اس کا قطعاً یہ مقصد نہیں کہ ہم نے دھوکا یا ڈبل گیم کیا ہے‘۔

وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب کے معاملے پر چیف جسٹس کے ریمارکس پر شکوہ بھی کیا۔ عمران خان نے کہا کہ ‘چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ پنجاب کے بارے میں جو کہا انہیں دیکھنا چاہیے تھا کہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں جب کہ زلفی بخاری سے متعلق چیف جسٹس کے ریمارکس پر بھی افسوس ہوا، میں نے کبھی اقربا پروری نہیں کی، چیف جسٹس کی عزت کرتا ہوں لیکن ان چیزوں پر افسوس ہے‘۔

قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’آج قائمہ کمیٹیاں بنارہے ہیں جب کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے معاملے پر اپوزیشن تعاون نہیں کررہی، اگر اپوزیشن کا تعاون نہیں رہا تو پی اے سی کا چیئرمین شہبازشریف کی بجائے اپنے طورپر کسی کو بنائیں گے‘

سرمایہ کاری سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ چھوٹی سے مدت میں بڑے بڑے سرمایہ کار ملک میں آئے ہیں، چین کی طرز کا ایکسپورٹ زون ملک میں لے کر آرہےہیں۔

انہوں نے کہا کہ لیگل ایڈ اتھارٹی بنارہےہیں، ایسےغریب جو وکیل نہیں کرسکتےحکومت انہیں وکیل کرکے دے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں