ہیگ کنوینشن پر عملدرآمد سے بچوں کے اغوا میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزائیں دی جاسکتی ہیں

راولپنڈی (سنہرا دور): ہیگ کنوینشن پر عملدرآمد سے بچوں کے اغوا کے گھناونے جرائم میں ملوث ملزمان کو قانون کے تحت قرار واقعی سزائیں دی جاسکتی ہیں اورمغوی بچوں کو بازیاب کرکے متاثرہ خانٹدان کا کرب دورکیا جاسکتا ہے۔ اس امر کا اظہار معروف قانون دان سابق جج اور سینٹر برائے عملداری قانون پاکستان کے سربراہ ماجد بشیر نے سندھ جوڈیشل اکیڈمی میں سینٹر فار رول آف لاء اور برٹش ہائی کمشن کے اشتراک سے ہیگ کنونیشن پر عملدرآمد کے اقدامات کے حوالے سے نیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں معروف وکلاء، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ سابق وفاقی وزیر قانون احمربلال صوفی نے اظہار خیال کے دوران کہا کہ ہیگ کنوینشن سے پاکستان اور ملک سے باہر بچوں کے اغوا، جبری شادیوں اور اسی نوعیت کے دیگر جرائم کے مرتکب عناصر کے خلاف قانون کے تحت کاروائی یقینی بنائی جاسکتی ہے انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ متعلقہ ادارے عوامی سطح پر شعوری آگاہی عام کریں تاکہ لوگوں کو اپنے حقوق کا فرائض کااحساس ہو سکے۔ انہوں نے عالمی معاہدوں میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے بھی بات کی۔ فریال ایوب ایڈووکیٹ نے اس موقع پر سینٹر فار رول آف لاء کی ان کوششوں کا ذکر کیا جو ہیگ کنوینشن کے بارے میں عوام الناس کوآگاہ کرنے اور متاثرین کو انصاف دلانے کے لئے جاری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پولیس، عدلیہ اور قانون نافذکرنے ولے اداروں کے باہمی تعاون سے بچوں کے اغوا سمیت دیگرجرائم کی وارداتوں پر قابو پانے میں مددمل سکتی ہے۔ دیگر مقررین نے بھی ہیگ کنونشن کی اہمیت اوراس پر عملدرآمد کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں