یمن تنازعہ کے حل کےلئے کوششیں جاری ہیں شاہ محمود

اسلام آباد…قومی اسمبلی کوبتایاگیا ہے کہ پاکستان یمن تنازعہ کے حل کےلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ افغانستان کے تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں۔افغانستان خود سیاسی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرے۔ پیر کو قومی اسمبلی وزیر خارجہشاہ محمود قریشی کی طرف سے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ 10 اپریل 2015ءکو پارلیمنٹ کی قرارداد کی روشنی میں یمن تنازعہ میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی وزیراعظم نے 24 اکتوبر 2018ءکو اپنے خطاب میں پیشکش کی ہے۔ پاکستان عالم اسلام کے تمام ممالک کے ساتھ قریبی اور دلی تعلقات رکھتا ہے۔ اس پر یقین رکھتے ہیں۔ یمن تنازعہ کے حل کے لئے تمام جماعتوں کے مابین بین الیمنی مذاکرات کرائے جائیں۔ پاکستان نے ہمیشہ امت مسلمہ کے مابین امن و مفاہمت کے لئے کوششیں کی ہیں۔ دونوں جانب سے قابل قبول ہونے کی صورت میں دو برادرانہ ممالک کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک اور سوال پر وزیر خارجہ کی جانب سے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ افغانستان میں امن سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوتا ہے اسی طرح افغانستان میں بدامنی سے پاکستان زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ حکومت پاکستان میں اقتصادی ترقی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے افغانستان میں امن اور استحکام کا ہونا ضروری ہے۔ افغانستان کے تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں۔ واحد قابل عمل حل یہ ہے کہ افغانستان خود سیاسی مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرے۔طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔کسی ایک ملک سے یہ کام انجام دینے کی توقع نہیں کی جانی چاہیے۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں