یورپ میں اسلام فوبیا دکھائی دے رہا ہےِ،شاہ محمود

ملتان…وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ عافیہ صدیقی حساس معاملہ ہے اس پر احتیاط سے کام لیا جائے۔نیوزی لینڈ واقعہ قابل مذمت ہے۔یورپ میں بدقسمتی سے اسلام فوبیا دکھائی دے رہا ہے ۔پاک ہند کشیدگی میں کمی آئی ہے۔ہمیں جنگ نہیں امن کی جانب بڑھنا ہے ۔ہندوستانی الیکشن تک ہمیں فضائی حدود اور لائن آف کنٹرول پر الرٹ رہنا ہوگا۔کرتار پور راہداری کیلئے آئندہ میٹنگ 2 اپریل کو ہوگی۔ ہفتہ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہا کہ کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کا واقعہ قابل مذمت ہے۔ دہشت گرد عالمی مسئلہ ہے۔ نیوزی لینڈ میں ایسا واقعہ پہلے کبھی ہوا نہ سنا ہے۔ حملہ آور نے نے اپنے سر پر کیمرہ نصب کیا ہوا تھا تاکہ وہ اس واقعہ کو ریکارڈ کرے اور پوری دنیا میں براہ راست دکھائے، یہ وہ ذہنی کیفیت ہے جس سے ایک سوچ واضح ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یورپ میں اسلام فوبیا دکھائی دے رہا ہے۔اس واقعہ کو دہشت گردی تسلیم کیا گیا ہے۔تفتیش سے بات سامنے آجائے گی کہ ملزمان کا مشن کیا تھا۔وزیرخارجہ نے کہا کہ نیوزی لینڈ حکومت نے جاں بحق افراد کی شناخت کرلی ۔ کرائسٹ چرچ میں 300 پاکستانی رہائش پذیرہیں۔اس وقت 9 کے قریب پاکستانی لاپتہ ہیں جن کے موبائل بھی بند ہیں ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری ترجیح لاپتہ پاکستانیوں کی تلاش ہونی چاہیے۔وقت گزرنے کے ساتھ فکر میں اضافہ ہورہا ہے۔پوری قوم اس وا قعہ میں لاپتہ پاکستانیوں سے متعلق فکر مند ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاک،ہند کشیدگی میں کمی آئی ہے۔ ہماری تو پہلے دن سے کشیدگی کم کرنے کی کوشش تھی۔کشیدگی کم کرانے کیلئے چین نے کردارادا کیا۔ اتوار کو دورہ چین کروں گا ۔ ہمیں جنگ نہیں امن کی جانب بڑھنا ہے تاہم ہندوستان میں انتخابات کا عمل 19 مئی تک پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔مودی سرکار سے کوئی توقع نہیں کہ وہ کوئی قدم اٹھائے۔ہندوستانی الیکشن تک ہمیں فضائی حدود اور لائن آف کنٹرول پر الرٹ رہنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی پائلٹ کو رہا کرنے کا ہند میں سنجیدہ لوگوں پر اثر ہوا ہے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ پہلی مرتبہ او آئی سی قرارداد میں کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کا ذکر کیا گیا۔ ہمارا موقف ہے کشمیر میں حق خود ارادیت کی جدوجہد ہے۔ساری دنیا نے دیکھا کہ ہند کا رویہ غیر ذمہ دارانہ اور پاکستان کا رویہ ذمہ دارانہ تھا ۔ روس نے پاکستان اورہندکشیدگی کے خاتمے کیلئے پلیٹ فورم دینے کی تجویز دی اور پاکستان نے روس کی تجویز کی حمایت کی ہے۔ ہند کومنانا ان کا کام ہے۔عافیہ صدیقی سے متعلق سوال پر وزیرخارجہ نے کہاکہ سوشل میڈیا کے بہت سے فوائد ہیں تاہم حقائق کے برعکس معلومات ہوتی ہیں۔جو لوگ اپنی بیٹی کی خدمت چاہتے ہیں ان سے گزارش ہے حساس معلومات پر خاموش رہیں۔ عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ اللہ کرے ہم عافیہ صدیقی کو رہا کروانے میں کامیاب ہوجائیں۔ جب بھی امریکہ سے بات کی ان کا کہنا ہے کہ امریکی قانون آڑے آتے ہیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے جبکہ ہند جان بوجھ کر خبریں لیک کرتا ہے۔پوری دنیا نے دیکھا کہ ہند کا رویہ جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں