جہیز۔۔۔ آخرکب تک؟

آسان الفاظ میں جہیز وہ رقم ، اشیاء یا جائیداد ہے جو ایک عورت شادی کے وقت اپنے سسرال میں لاتی ہے۔ جہیز لانے کا مقصد ایک عورت کو اپنے سسرال میں ممکنہ بدسلوکی سے ، معاشی اور معاشرتی تحفظ دینا ہے۔ تاہم اس رسم کو غلط تاثر دیا گیا اب یہ روایت لالچ ، مادہ پرستی اورجبرکی علامت بن چکی ہے۔ عورت کے خاندان پرزیادہ جہیز دینا لازم وملزوم ٹھہرایا جاتا ہے۔ زیادہ تر واقعات میں جہیز زیادہ نہ دینے پر شادیاں بھی انجام تک نہیں پہنچ پاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں لڑکی کی پیدائش کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ لڑکوں کی پیدائش پر خوشی اورلڑکیوں کی پیدائش پر اداسی عام دیکھنے میں آتی ہے۔
جہیز کی بڑھتی ہوئی لعنت نے معاشرے میں موجود عورتوں کے خلاف بھیانک جرائم کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ زیادہ جہیز نہ لانے پر لڑکیوں سے شادی پر انکار کردیا جاتا ہے جومزید معاشرتی لعنتوں کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوتا ہے۔ جہیز پر مسائل شروع سے ہی اس معاشرے کا حصہ رہے ہیں تاہم مناسب قوانین نہ ہونے کے سبب اس پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ دلہن کا خاندان اپنی بچی کو برانڈڈ اشیا کی طرح تشہیر کر کے دولہے کے خاندان کو بیچتا ہے۔ بدقسمتی سے عورت کو ایک برانڈ کی طرح سمجھا جاتا ہے۔جتنا بڑا برانڈ اتنی ہی زیادہ مانگ۔

گیلپ پاکستان کے 2010 میں جہیز پر کیے جانے والے سروے کےمطابق 31 فیصد لوگوں نے جہیز لینے اوردینے کی تائید کی۔ 53 فیصد نے کسی حد تک جہیز کے حق میں فیصلہ دیا ، 15 فیصد نے جہیز کے خلاف ، جبکہ ایک فیصد نے کسی بھی قسم کی رائے سے گریز کیا۔ تقابلی مناظرے کے طور پر 2016 میں بھی جہیزپرسروے کیا گیا۔ جس میں 34 فیصد نے جہیز کے حق میں ، 48 فیصد نے کسی حد تک جبکہ 18 فیصد نے جہیز کے خلاف رائے کا اظہارکیا۔ عوام کی آرا کے مطابق پچھلے سال کی نسبت 3 فیصد زیادہ لوگوں نے جہیزکے حق میں ،5 فیصد کم لوگوں نے کسی حد تک جہیز کی تائید کی جبکہ 3 فیصد زیادہ لوگوں نے جہیز لینے اور دینے کے خلاف فیصلہ دیا۔
بظاہر لگتا ہے کہ عوام نے اس روایت کو اپنا لیا ہے جسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ سیالکوٹ میں تین ہفتے کی شادی شدہ عورت نے تیزاب پی لیا جس کے نتیجے میں ڈسکہ سول ہسپتال میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ ڈسکہ پولیس کے مطابق 25 سالہ تحریم بی بی مغل پورہ کی رہائشی کو محلہ دار اسپتال لائے جسے اس کے سسرال والوں نے زبردستی تیزاب پینے پر مجبور کیا۔ ڈاکڑوں کے مطابق تیزاب پینے سے اندرونی زخموں سے اس کی موت واقع ہوئی -تحریم کی شادی محض تین ہفتوں پہلے عمران مغل سے ہوئی جس کو اکثر زیادہ جہیز نہ لانے پر سسرال میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا تھا۔

اچھے خاندانی اقدارایک اچھے فرد کا سبب بنتے ہیں ۔ لیکن جب شادی کی بنیاد مادہ پرستی پرہوتوکامیاب شادی کا حصول مشکل ہے۔ شادی کی اقدار کا اندازہ اس پر لٹائے جانے والے پیسوں کی قیمت سے کیا جاتا ہے۔ جس شادی کی بنیاد خاتون کے لائے جانے والی دولت پرمنحصر ہوایسی شادیاں بےبنیاد باتوں پرختم بھی ہوجاتی ہیں۔
حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کے مطابق بہترین نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ کیا جائے۔ ایسے لوگ جوجہیز دینے کے متحمل ہیں انہیں اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور دولہے کےخاندان کو سمجھانا چاہیے کہ یہ قطعی اسلامی روایت نہیں۔ اگر شادیوں میں انفرادی طور پر ہر انسان تھوڑی کوشش کرے تو اس لعنت کو معاشرے سے ختم کیا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں