مصر میں فرعونوں کے دور کی حنوط شدہ لاشیں بر آمد

مصر میں آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران 30 تابوت ملے ہیں جس میں قدیم ممیاں بھی شامل ہیں۔

محکمہ آثار قدیمہ کے سیکرٹری جنر ل مصطفی وزیری نے میڈیا کو بتا یا کہ ملنے والے حالیہ تابوت و ممیاں اس صدی میں ملنے والی تمام ممیوں سے بڑی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آرکیالوجی ڈپارٹمنٹ کی مسلسل ایک سال کھدائی کرنے کے بعد یہ تابوت دریافت ہوئے ہیں ۔

یہ تابوت تقریباً 3 ہزار سال پرانے ہیں ، جس میں قدیم حنوط شدہ لاشیں بھی محفوظ ہیں ۔

تین ہز ار سال پرانے تابوتوں میں سے دور فراعنہ سے تعلق رکھنے والے منقش تابوتوں میں حنوط شدہ لاشیں بھی محفوظ ہیں ۔

مصری حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدیم تابوت بہت اچھی حالت میں ملے ہیں جبکہ تابوتوں کی لکڑی کے ساتھ نقش و نگار کے رنگوں کو بھی نقصان نہیں پہنچا ۔

حکام کا کہنا ہے کہ فراعین مصر کے دور کی گزشتہ ایک صدی میں ہونے والی یہ سب سے بڑی دریافت ہے، جبکہ یہ تابوت دریائے نیل کے مغرب میں اساسف کے مقام پر صرف 3فٹ کی گہرائی میں دفن تھے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں