’سموگ‘ کے موسمیاتی ماحول پر خطرناک اثرات

گذشتہ چند برسوں میں وسطی پنجاب خاص طور پر لاہور والوں کو چار نہیں بلکہ پانچ موسموں کا سامنا ہے اور پانچواں موسم ہے سموگ۔
سننے میں تو شاید یہ نام رومانوی سا لگتا ہے جیسے کہ فوگ، اور بظاہر دکھنے میں بھی یہ فوگ یعنی دھند سے ملتا جلتا ہی ہے لیکن سموگ یا آلودہ دھند قطعاً رمانوی نہیں ہے۔

سموگ ہے کیا؟

سموگ کا لفظ 50 کی دہائی میں اس وقت استعمال ہوا جب امریکہ اور یورپ کو صنعتی انقلاب کے باعث فضائی آلودگی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب دھوئیں (سموگ) اور سلفر ڈائی آکسائیڈ کے ملاپ سے فضا خطرناک حد تک آلودہ ہو گئی تو آلودگی کی اس شکل کو سموگ کا نام دیا گیا۔

صوبہ پنجاب میں ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی (انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی) کے شعبہ لیبارٹری کے سربراہ علی عباس کے مطابق ’سموگ یا آلودہ دھند میں زمینی اوزون، سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ اور پارٹیکیولیٹ میٹر دو اعشاریہ پانچ جیسے عناصر ہوتے ہیں اور اس میں بھی انسانی صحت کے لیے سب سے زیادہ خطرناک پارٹیکیولیٹ میٹر دو اعشاریہ پانچ ہے۔‘

ان کے مطابق یہ خورد بینی ذرات ہوتے ہیں جو ٹھوس اور مائع دونوں صورتوں میں ہو سکتے ہیں۔

سموگ کا موسم
پاکستان میں سموگ کے مسئلے نے 2015 میں اس وقت شدت اختیار کی جب موسم سرما کے آغاز سے پہلے لاہور اور پنجاب کے بیشتر حصوں کو شدید دھند نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
یہ ایسی دھند تھی جس میں نہ تو سردی کا احساس تھا اور نہ ہی کوئی جازبیت تھی، بلکہ آنکھوں اور گلے میں جلن نے لوگوں کی توجہ حاصل کی اور مقامی میڈیا کی خبروں نے لوگوں کو سموگ جیسے لفظ سے روشناس کروایا۔
جب حکومتی محکموں کی تگ و دو شروع ہوئی تو خاصی دیر ہو چکی تھی، لہٰذا سارا زور حفاظتی تدابیر پر لگایا گیا۔ اس سے اگلے سال اکتوبر کے آخر اور نومبر کے شروع میں ایک بار پھر سموگ نے پنجاب کو لپیٹ میں لے لیا، لیکن اس بار فرق یہ تھا کہ سموگ کی وجوہات اور حکومت کی طرف سے حفاظتی اقدامات پہلے ہی شروع کر دیے گئے تھے۔

ان اقدامات میں سرفہرست اینٹوں کے بھٹوں کی بندش، فصلوں کی باقیات کو جلانے پر پابندی اور زیادہ دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں کی مانیٹرنگ اور جرمانے جیسے اقدامات شامل تھے۔ ان اقدامات سے بھی خاطر خواہ فرق نہیں پڑا اور مختلف شہر بدستور سموگ کی لپیٹ میں رہے۔
رواں سال ایک بار پھر نومبر کے آغاز میں ہی سموگ نے پنجاب کے بیشتر اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے ڈائریکٹر علی عباس کہتے ہیں کہ ’حکومت نے اقدامات کیے ہیں لیکن سموگ کو روکنا ممکن نہیں۔ یہ ماحولیاتی مسئلہ ہے اور بڑے پیمانے پر شجر کاری اور دیگر ماحول دوست اقدامات جس میں گاڑیوں کی تعداد کم کرنا اور عوام کا ماحول سے متعلق شعور بہت اہم ہے۔

تو کیا اب سموگ کو ایک مستقل جزو یا ’نیو نارمل‘ کے طور پر قبول کر لینا چاہیے؟

اس سوال کے جواب میں علی عباس کا کہنا تھا کہ ’یہ بات ایسے ہی ہے کہ کسی مشین سے تو فضا کو صاف نہیں کیا جا سکتا۔ ہم جو اقدامات کر رہے ہیں ان میں انڈسٹری کی سطح پر دھوئیں کے اخراج کو روکا گیا ہے لیکن دلچسپ بات یہ کہ پاکستان میں انڈسٹری پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہے اور اس سموگ میں اس کا حصہ دو فیصد سے بھی کم ہے۔ پوری انڈسٹری بند کر دیں تو بھی سموگ آئے گی اور اس پر قابو صرف اجتماعی کوشش سے ہی ممکن ہے۔‘
ماحولیاتی ایجنسی نے اس وقت سموگ پر جتنی تحقیقات کی ہیں اس کے مطابق پاکستان میں سموگ اکتوبر سے جنوری تک کسی بھی وقت وارد ہو سکتی ہے اور اس کی شدت 10 سے 25 دن تک طویل ہو سکتی ہے اور فوری ریلیف صرف بارش سے ہی ممکن ہے۔
محکمہ ماحولیات سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق حفظ ماتقدم کے طور پر 2019 میں 2 ہزار 407 چھوٹی بڑی فیکٹریوں کا معائنہ کیا گیا ہے جن میں سے ایک ہزار 487 کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی کو بہتر کریں جبکہ اینٹوں کے بھٹوں سمیت زیادہ آلودگی پھیلانے والے 86 فیکٹری یونٹ عارضی طور پر بند کیے گئے ہیں۔ اسی طرح 91 افراد پر مقدمات کا اندراج بھی کیا گیا ہے اور اس وقت بھی ماحولیاتی آلودگی سے ہنگامی طور پر نمٹنے کے لیے دفعہ 144 نافذ ہے۔

پنجاب میں سموگ کتنی خطرناک ہے؟
سموگ انسانی صحت کے لیے کتنی خطرناک ہے اس کا تعین تو سموگ میں موجود عناصر کی مقدار سے ہوتا ہے۔ اگر پارٹیکیولیٹ میٹر دو اعشاریہ پانچ مقررہ حد سے تجاوز کر جائے تو صورت حال سنگین ہے۔
پنجاب کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کو جانچنے کے لیے ایئر کوالٹی مانیٹرز نصب کیے گئے ہیں جو 24 گھنٹے مانیٹرنگ کرتے ہیں۔ فضا میں موجود تمام آلودگی کے عناصر کو ایک فارمولے کے تحت جانا جاتا ہے اور اس کے بعد ایئر کوالٹی انڈیکس نکلتا ہے جس سے اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ آلودگی کا تناسب کیا ہے۔
محکمہ ماحولیات کی گائیڈ لائنز کے مطابق اگر ایئر کوالٹی انڈیکس 200 تک ہو تو اس کو نارمل گردانا جاتا ہے۔ دو سو سے تین سو تک بھی صورت حال قابل قبول ہے، اس میں ہلکی پھلکی جلن آنکھوں میں محسوس ہو سکتی ہے جبکہ سانس اور دل کے مریض، بچے اور بوڑھے اس مقدار سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

تاہم تین سے چار سو انڈیکس ہونے پر زیادہ دیر آلودہ فضا میں رہنا مسائل پیدا کر سکتا ہے جبکہ چار سے پانچ سو تک انڈیکس آلودگی کی خطرناک حد کو ظاہر کرتا ہے۔
آج ہفتے کے روز لاہور میں یہ انڈیکس 190 تک پہنچ چکا ہے جبکہ واہگہ بارڈر پر لگائے گئے مانیٹر کے مطابق اس علاقے میں آلودگی کا انڈیکس ساڑھے تین سو ہے۔
محکمہ ماحولیات کی موبائل ایپلیکیش پر براہ راست ان مانیٹرنگ سسٹمز کے اعداد و شمار دیکھے جا سکتے ہیں۔

لاہور کے سرحدی علاقے میں آلودگی کا تناسب زیادہ کیوں؟
اس سوال کے جواب میں ڈائریکٹر انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی علی عباس نے بتایا کہ ’اس وقت جالندھر کے علاقے میں بڑے پیمانے پر چاول کی فصل کے بعد باقیات کو آگ لگائی جا رہی ہے اور ہم سیٹلائٹ تصاویر سے یہ دیکھ پا رہے ہیں کیونکہ انڈیا میں فصل کی باقیات جلانے پر پابندی نہیں ہے اس لیے لاہور کے سرحدی علاقے کی فضا اور بھارتی پنجاب کی فضا میں آلودگی کا تناسب زیادہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں