چین نے بحران کے شکار سوڈان کا پہلا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

دفاع، معیشت اور خلائی ٹیکنالوجی پر تحقیق کے لیے چین نے سوڈان کا پہلا سیٹلائیٹ خلا میں بھیج دیا ہے۔
فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سوڈان کی خودمختار کونسل کے سربراہ جنرل عبدل فتح البرہان خرطوم میں اپنے اعلی سکیورٹی عہدیداروں کے ساتھ اہم اجلاس میں سیٹلائیٹ لانچ کرنے کا اعلان کیا۔
چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی شن ہوا کے مطابق سیٹلائیٹ اتوار کو چین کے شمالی حصے میں واقع صوبے شان زی سے لانچ کیا گیا۔
کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ سیٹلائیٹ سپیس ٹیکنالوجی میں تحقیق کرے گا، ڈیٹا اکٹھا کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قدرتی وسائل دریافت کرے گا‘۔

سوڈان کی عبوری کونسل کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ’آئندہ کچھ دنوں میں سیٹلائیٹ کی نگرانی سوڈان سے کی جائے گی۔ چین چونکہ اس منصوبے میں شراکت دار ہے اس لیے اس نے سیٹلائیٹ لانچ کیا ہے۔‘
سوڈان جو معاشی بحران سے نبرد آزما ہے، میں کئی دہائیوں سے نیشنل سپیس پروگرام پر کام جاری ہے۔
سنہ 2013 میں سوڈان کے سابق حکمران عمر البشیر نے سپیس ٹیکنالوجی میں ترقی کے لیے انسٹیٹیوٹ آف سپیس ریسرچ اینڈ ایرو سپیس کی بنیاد رکھی تھی۔

سوڈان کے سابق حکمران عمرالبشیر کی حکومت کے خلاف کئی ماہ سے احتجاج جاری تھا۔ عمر البشیر کی 30 برس کی حکمرانی کے خاتمے کے لئے سوڈان میں مظاہرے کئے جارہے تھے ۔
مظاہرین ملک میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور ملک کی کمزور معیشت کے خلاف سڑکوں پر نکل کر عمر البشیر سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ملک گیر احتجاج کے بعد سوڈان کی فوج نے حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں