لاہور میں بدترین سموگ، شہریوں کو سانس لینے میں دشواری، بیماریاں پھیلنے کا خطرہ

شام ہوتے ہی لاہور کی فضا بدترین سموگ کی لپیٹ میں آ چکی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو آنکھوں کی شدید جلن اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس 454 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لاہور کے مختلف علاقوں پنجاب اسمبلی 731، اپر مال میں 647، ڈیفنس میں 401 جبکہ گڑھی شاہو میں ایئر کوالٹی انڈیکس 457 ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ سموگ ایک ہوائی آلودگی ہے جو دیکھنے کی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہے۔ صنعتی علاقوں میں سموگ واضح کثرت سے دیکھی جا سکتی ہے اور یہ شہروں میں اکثر دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس آلودگی کی وجہ سے سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری بغیر ضرورت گھروں سے نہ نکلیں اور اگر باہر جانا ضروری ہو تو چہرے کو کسی گیلے کپڑے یا ماسک سے ڈھک لیں تاکہ سموگ کے مضر اثرات سے بچا جا سکے۔

زیادہ پانی اور گرم چائے کا استعمال سموگ کے اثرات کم کرنے میں فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گھر آنے کے بعد اپنےہاتھ، چہرے اور جسم کے کھلے حصوں کو صابن سے دھوئیں۔ کھڑکیوں اور دروازوں کے کھلے حصوں پر گیلا کپڑا یا تولیہ رکھیں۔ فضا صاف کرنے کے آلات کا استعمال کریں۔ گاڑی چلاتے ہوئے گاڑی کی رفتار دھیمی رکھیں اور فوگ لائٹس کا استعمال کریں۔ زیادہ ہجوم والی جگہیں خصوصاً ٹریفک جام سے پرہیز کریں۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے تمام متعلقہ محکموں کو سموگ کے خلاف مہم تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کے لئے ممکنہ اقدامات اُٹھائے جائیں۔ ادھر لاہور ہائیکورٹ نے فضائی آلودگی کے خلاف درخواست پر پنجاب حکومت سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق لاہور کو فضائی آلودگی میں آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا ہے۔ بھارتی پنجاب میں فصلوں کو لگنے والی آگ کے دھوئیں نے لاہور کو گھیر لیا ہے۔ تاہم محکمہ ماحولیات کے آلات سب اچھا ہے کی رپورٹ دینے لگے ہیں۔

لاہور میں 454، گوجرانوالہ 403، فیصل آباد میں 228، کراچی 162، سیالکوٹ 158، اسلام آباد 154 اور مریدکے میں ایئر انڈیکس 546 ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں رات تک ائیرانڈیکس مزید بڑھنے جبکہ رات 2 بجے کے بعد بارش کا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں