کیل مہاسوں کے لیے مفید اور نقصان دہ غذائیں

صاف جِلد ہر مرد و عورت کا خواب ہے، داغ دھبوں اور دانوں سے بھرا چہرہ کسی کو بھی نہیں پسند، کچھ خوش نصیب لوگوں کی جلد قدرتی طور پر صاف ہوتی ہے اور کچھ کو اس کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے جس میں وقت اور پیسے کا ضیاع بھی ہے ۔

جلد کے صاف ہونے میں غذا کا بہت بڑا کردار ہوتاہے، جنہیں ایکنی اور کیل مہاسوں کی شکایت ہو اُن کے لیے کچھ غذاؤں کا استعمال اور کچھ غذاؤں کو ترک کر دینے سے افاقہ ہوتا ہے۔

جلد کی صحت کے لیے مندرجہ زیل غذاؤں کاا ستعمال لازمی ہے۔

مچھلی

ماہرین غذائیت کے مطابق ’سالمن‘، ’سارڈینز‘ اور ٹونا مچھلی جلد کی صحت کے لیے بہترین غذا ہے، مچھلی میں سوزش کا علاج موجود ہے اور اومیگا 3 پائے جانے کے سبب صحت بخش ہے، اومیگا تھری زخموں کو فوری بھرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے، 2014ء میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق مچھلی کے استعمال سے ایکنی میں واضح کمی آتی ہے، ایکنی سے جان چھڑانے کے لیے مچھلی یا اومیگا تھری سپلیمنٹس کا استعمال بے حد ضروری ہے۔

کھیرا، تربوز ، مالٹے

ماہرین جِلدی امراض کا کہنا ہے کہ کیل مہاسوں سے نجات کے لیے ایسی غذاؤں کا استعمال ضروری ہے جس میں پانی کی بھر پور مقدار ہو، کھیرا ، وٹامن سے بھرپور مالٹے اور تربوز میں بھرپور مقدار میں پانی پایا جاتا ہے جس کو غذامیں شامل کرنے سے پانی کی کمی ، جلد میں نمی اور پی ایچ مناسب مقدار میں افزائش پاتا ہے جس سے چہرہ کھِلا کھِلا اور صاف رہتاہے۔

کاجو

خشک میوہ جات کا استعمال مجموعی طور پر صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے، مگر جب بات آئے صاف اسکن کی خواہش کی تو کاجو کا استعمال نہایت مفید ہے، زنک سے بھر پور کاجو اینٹی ان فلامنٹری اور قوت مدافعت بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے جس کے باعث ہر قسم کی ایکنی کا علاج ممکن ہے ۔

پروبائیوٹک سے بھر پور غذائیں

ایکنی سے نجات کے لیے ایسی غذاؤں یعنی دہی، بند گوبھی، پنیر کا استعمال لازمی ہے جن میں پروبائیوٹک موجود ہوتے ہیں، اگر ایکنی کو دنوں میں ختم کرنا چاہتے ہیں تو نہار منہ ایک پیالہ دہی کھانے کو اپنی عادت میں شامل کر لیں۔

مندرجہ ذیل غذاؤں سے پر ہیز لازمی ہے

تلی ہوئی غذاؤں سے پر ہیز

کیل مہاسوں اور داغ دھبوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو کاربوہائیڈریٹس، مسالے، مرغن غذاؤں اور زیادہ چینی کا استعمال ترک کر دیں۔

دودھ سے پرہیز

ایکنی سے نجات کے لئے دودھ کا استعمال ترک کر دیں، کیونکہ اس کے استعمال سے ایکنی میں اضافہ ہوتا ہے اس لیے اس سے پرہیز لازمی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں