نواز شریف کی طبیعت پہلے سے بہت زیادہ خراب ہے ، جہاں علاج ممکن ہوا، جائیں گے: مریم نواز

سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کی طبیعت پہلے سے بہت زیادہ خراب ہے، ، گزشتہ روز ان کے پلیٹ لیٹس پھر کم ہو گئے تھے۔

لاہور کی احتساب عدالت میں چوہدری شوگر ملز کیس میں پیشی کے موقع پر مریم نواز میڈیا سے گفتگو کی۔

اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ میاں نواز شریف علاج کے لیے کب باہر جا رہے ہیں؟

مریم نواز نے جواب دیا کہ نوازشریف کی طبیعت تھوڑی نہیں بہت خراب ہے، والد کا جہاں بھی دنیا میں علاج ممکن ہے، انہیں جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ میری ماں کے جانے کے بعد والد میرا سب کچھ ہیں، سیاست تو ساری زندگی چلتی رہتی ہے، مگر والدین دوبارہ نہیں ملتے، پہلے والد کی صحت ہے، سیاست بعد کی بات ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ میں اپنی والدہ کو ایک سال قبل کھو چکی ہوں، اب 24 گھنٹے والد کے ساتھ رہتی ہوں، بڑی مشکل سے وقت نکال کر والد کو چھوڑ کر عدالت آئی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف بیرونِ ملک علاج کرانے کے لیے تیار ہیں، میرا نام ای سی ایل میں ہے، میں سفر نہیں کر سکتی، پاسپورٹ عدالت کے پاس ہے، اس لیے والد کے ساتھ ان کے علاج کے لیے ملک سے باہر نہیں جا سکتی۔

سابق وزیرِ اعظم کی صاحبزادی نے یہ بھی کہا کہ ای سی ایل سے میاں نواز شریف کا نام نکلوانے کے لیے قانونی معاملات میرے چچا شہباز شریف دیکھ رہے ہیں۔

دوسری جانب لاہور کی احتساب عدالت نے چوہدری شوگر ملز کیس کی سماعت 22 نومبر تک ملتوی کر دی۔

عدالت میں بیان دیتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ عدالت میں بلایا جائے اور میں نہ آؤں، آج بھی میں والد کو چھوڑ کر آئی ہوں، میاں صاحب کی طبیعت کافی ناساز ہے۔

عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر سے ریفرنس دائر کرنے سے متعلق استفسارکیا۔

مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے عدالت سے استدعا کی کہ ریفرنس دائر ہونے تک حاضری سے استثنیٰ دیا جائے، ریفرنس دائر ہونے تک حاضری سے استثنیٰ کی گنجائش قانون میں موجود ہے۔

عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ آپ درخواست فائل کریں جس پر بعد میں فیصلہ ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں