5 برس میں 5244 افراد دہشت گردی کا نشانہ بنے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزارت داخلہ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2013 سے اب تک ملک میں دہشت گردی کے 5992 واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں 5244 افراد شہید ہوئے۔وزارت داخلہ نے سال 2013 سے اب تک ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی تفصیلات سینٹ میں پیش کیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 برس کے دوران ملک میں دہشت گردی کے کل 5992 واقعات رونما ہوئے، جن میں 5244 افراد شہید ہوئے۔

وزارت داخلہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ شہید ہونے والے افراد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 1942 اہلکار جبکہ 3302 عام شہری شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ان دہشت گردی کے واقعات میں 14204 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 3664 اہلکار جبکہ 10545 عام شہری شامل ہیں۔

’احسان اللہ احسان سے متعلق ہمارے پاس کوئی جواب نہیں‘
اس سے قبل سینیٹ اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کہ احسان اللہ احسان کے خلاف کیا مقدمہ چلایا جارہا ہے؟ کیا احسان اللہ احسان کا مقدمہ فوجی عدالت کو بھجوایا جائے گا؟ کے جواب میں وزارت داخلہ نے تحریری جواب سینیٹ میں پیش کر دیا۔

وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان کا معاملہ سویلین ایجینسز کو بھجوایا گیا تھا اور سویلین ایجنسیز کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو نہیں دیکھ رہے۔وزارت داخلہ نے مزید کہا کہ احسان اللہ احسان سے متعلق ہمارے پاس کوئی جواب نہیں۔

اپنے جواب میں وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم ہے کہ عدالت کے حکم کے بغیر احسان اللہ احسان کو نہ چھوڑا جائے۔

وزارت کا کہنا تھا کہ ہوم ڈپارٹمنٹ کی سفارشات پر احسان اللہ احسان کے مقدمے کو خصوصی کیمٹی کے سامنے رکھا جائے گا جبکہ کمیٹی نے منظوری دی تو احسان اللہ کے خلاف کیس فوجی عدالت میں چلایا جائے گا۔

آرمی چیف کی خبریں لیک ہونے کا معاملہ
بعد ازاں چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی زیر صدارت ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قومی سلامتی سے متعلق سینیٹ کے پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی اجلاس میں شرکت کی خبریں لیک ہونے کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔

ذرائع نے بتایا کہ سینیٹ سیکریٹریٹ نے پیمرا سے ارکان سینیٹ کے اجلاس سے متعلق بیانات کا ریکارڈ حاصل کرلیا، جس کے مطابق سینیٹرز نہال ہاشمی، پرویز رشید، مشاہد حسین سید نے اجلاس سے متعلق میڈیا سے بات چیت کی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ فاروق ایچ نائیک، شیری رحمان سمیت دیگر ارکان نے بھی ان کیمرہ اجلاس سے متعلق میڈیا سے بات چیت کی تھی۔کمیٹی کے اجلاس میں تمام ارکان پارلیمنٹ کے بیانات کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی ذرائع نے بتایا کہ ان کیمرہ اجلاس کی کارروائی کو پبلک کرنا قواعد کی خلاف ورزی ہے اور کمیٹی ارکان نے رائے دی کہ مستقبل میں اس قسم کی اقدام کو روکنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔کمیٹی میں یہ رائے بھی دی گئی کہ مستقبل میں اگر کسی رکن نے ان کیمرہ اجلاس کی معلومات پبلک کی تو کارروائی ہوگی۔

بعد ازاں کمیٹی ذرائع نے بتایا کہ خبریں لیک ہونے کے سلسلے کو روکنے کے لیے کمیٹی نے سینیٹ کے قواعد و ضوابط میں ترمیم کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق معلومات پبلک کرنے والے رکن پر اجلاس میں شرکت پر پابندی عائد کی جائیگی جبکہ سینیٹ کے قواعد و ضوابط میں ترمیم کا فیصلہ بھی کیا گیا جس کے بعد معلومات شیئر کرنے والا رکن 30 دن تک سینیٹ اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے گا۔

اس موقع پر مشاہد حسین سید نے کہا کہ آرمی چیف کی اجلاس میں شرکت کے بعد یہ اقدام مناسب نہیں جبکہ ایک واقعے کو بنیاد بنا کر اگر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے تو مناسب نہیں ہوگا۔سینیٹر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی اجلاس میں شرکت کے بعد خبروں کو سامنے آنے سے اچھا پیغام گیا۔

جس پر سینیٹ چیئرمین رضا ربانی نے کہا کہ پابندی آرمی چیف سے متعلق خبریں لیک ہونے کی وجہ سے نہیں لگائی جا رہی اور آرمی چیف سے متعلق خبروں کا اس ترمیم سے کوئی تعلق نہیں۔بعد ازاں سینیٹ نے قواعد و ضوابط میں ترمیم منظور کرلی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں