1 سیکنڈ کے اربویں حصے میں منظر پہچاننے والی مصنوعی آنکھ

دنیا بھر میں کمپیوٹر کو حقیقی مناظر دیکھنے کے قابل بنایا جا رہا ہے جسے ‘کمپیوٹر وژن’ کہا جاتا ہے۔ اسی ضمن میں جدید ترین مصنوعی آنکھ تیار کی گئی ہے جو ایک سیکنڈ کے اربویں حصے میں کسی بھی منظر کو پہچان سکتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایسی چِپ کیوں ضروری ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیشِ نظر مصنوعی طور پر دیکھنے والے نظاموں کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

یہ کام ویانا میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف فوٹونکس میں انجام دیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کی ٹیم نے ٹنگسٹن ڈی سیلینائیڈ کے چند ایٹموں سے چِپ ڈیزائن کی ہے۔ پھر اس پر روشنی محسوس کرنے والی ڈائیوڈ لگائی گئی ہے۔

اس کے بعد ان ڈائیوڈ کو ایک نیورل نیٹ ورک سے جوڑا گیا۔ اس طرح پوری چپ نیورل نیٹ ورک سے یوں جڑتی ہے کہ آپ اسے حسبِ ضرورت تبدیل کر سکتے ہیں۔

اسی بنا پر اب تک چپ کو انگریزی کے بعض حروف یعنی N V اور Z کی شناخت کے قابل بنایا گیا ہے ۔ تاہم اس پر مزید تحقیقات جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں