بوسٹن میراتھون کے حملہ آور کی سزائے موت ختم

امریکا کی وفاقی عدالت نے 2013ء میں بوسٹن میراتھون کے 3 شائقین کو بھائی کے ساتھ مل کردیسی ساختہ بموں سےہلاک کرنےکے مجرم کی سزائے موت ختم کر دی، عدالت نے فیصلے کےلئے دوبارہ سماعت کاحکم دیا ہے۔

امریکی فرسٹ سرکٹ عدالت کے تین ججوں پر مشتمل بینچ نے مجرم زوخار سارنئیف پر لگائے گئے 3 الزامات ختم کرکے اس کی 5 بار کی موت کی سزا ختم کر دی ہے، تاہم عدالت نے سارنئیف پر دو الزامات برقرار رکھتے ہوئے اسے وفاقی جیل میں رکھ کر اس پر مقدمہ دوباہ چلانے کا حکم دیا ہے۔

سارنئیف کے وکلاء نے موقف اپنایا کہ انہیں منصفانہ ٹرائل نہیں ملا، دسمبر میں جیوری دہشت گردی سے براہ راست متاثرہ افراد پر مشتمل تھی جو پہلے ہی سارنئیف کے بارے میں اپنا ذہن بنا چکے تھے۔

سارنئیف کو2015 ء میں گرفتار کرکے کولوراڈو کی وفاقی جیل میں رکھا گیا،، ملزم پر الزام ہے کہ اس نے 15اپریل 2013ء کو جب اس کی عمر صرف 19برس تھی اپنے 26سالہ بھائی کے ساتھ مل کر 3 دھماکے کیے تھے جن سے 2 شہری اور ایک پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں