ملک میں کورونا کیسز کی تعداد 243 ہوگئی

ملک بھر میں کورونا وائرس کے مزید 48 کیسز سامنے آگئے، جس کے بعد مجموعی تعداد 243 ہوگئی ہے۔ پنجاب میں 25، سندھ میں 17 اور بلوچستان میں مزید 6 افراد کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

ترجمان محکمہ صحت کے مطابق نئے کیسز میں 2 مریضوں کا تعلق کراچی سے ہے جبکہ 15 مریض تفتان سے سکھر پہنچے ہیں۔

ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ نئے کیسز کے بعد تفتان سے سکھر پہنچنے والے 134 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

کراچی کے 37 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ ایک مریض کا تعلق حیدر آباد سے ہے۔

پاکستان علماء کونسل کا کورونا پر فتویٰ

اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت کورونا وائرس ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کراچی میں کورونا وائرس کے مزید دو کیسز سامنے آئے ہیں، جبکہ سکھر میں تفتان سے آئے زائرین میں سے 134 میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔

سندھ میں کورونا وائرس کے مزید 17 کیس رپورٹ ہونے کے بعد صوبے میں میں 172، پنجاب میں 26، خیبرپختوامیں 15، بلوچستان میں 16، اسلام آباد میں 4 اور گلگت بلتستان میں کورونا کے 3 مریض سامنے آچکے ہیں۔ اس طرح ملک بھر میں یہ تعداد 243 ہوگئی۔

کورونا کا خطرہ، پی ایس ایل5 فوری ملتوی

وزیراعظم عمران خان آج قوم سے خطاب کریں گے، جس کے دوران کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال اور حکومتی اقدامات سے آگاہ کریں گے۔

کوروناوائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن فائیو کے سیمی فائنلز اور فائنل بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔

کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سندھ حکومت نے شہر کراچی میں شاپنگ مالز اور ریسٹورنٹ 15 روز کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ یہ فیصلے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شہر میں راشن، سبزی اور اشیائے خورونوش کی دکانیں کھلی رہیں گی جبکہ شاپنگ مالز میں بھی راشن کی دکانیں کھلی رہیں گی۔

ترجمان سندھ حکومت کے مطابق کریانہ کی دکانیں، سبزی اسٹور، مرغی مچھلی، مارکیٹیں اور میڈیکل اسٹورز کھلے رہیں گے۔

سندھ حکومت نے ریسٹورانٹ کو بند کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، اس کے مطابق ریسٹورانٹ میں بیٹھ کر کھانے پر پابندی ہوگی جبکہ کھانا گھر لے جانے اور ہوم ڈیلوری کی سروس جاری رہے گی۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ تفتان میں ایران سے آنے والے زائرین کو مناسب قرنطینہ میں نہ رکھنے کا نتیجہ پورا پاکستان بھگت رہا ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہماری اطلاع کے مطابق تفتان سے 500 لوگ پنجاب میں داخل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ آج پنجاب کو شہباز شریف کی ضرورت ہے، یہ عثمان بزدار کے بس کی بات نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں