کیا درخت ہجرت کرتے ہیں؟ حیران کن انکشافات سامنے آ گئے

درخت زمین کا حسن ہیں۔ یہ انسانی دماغ کے لیے مفید ہونے کے علاوہ کئی جنگلی حیات کا مسکن ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ درخت ایک دوسرے سے ہم کلام بھی ہوتے ہیں۔

اربوں کھربوں درخت

ایک عالمی ریسرچ کے مطابق زمین پر گیارہ ٹریلین درخت ہیں۔ یہ درخت ساٹھ لاکھ قسموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ بعض درخت کمیاب ہوتے جا رہے ہیں۔ سب سے زیادہ درخت برازیل، کولمبیا اور انڈونیشیا میں پائے جاتے ہیں۔ انسانی تہذیب کی شروعات کے مقابلے میں اب چھیالیس فیصد درخت کم ہو چکے ہیں۔

درخت بھی ہجرت کرتے ہیں

درخت زمین میں سے جڑیں تو نکال نہیں سکتے لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے ان کے جھنڈ اپنا مقام ضرور تبدیل کرتے ہیں۔ خاص طور پر خشک سالی بڑھنے پر یہ بتدریج زیادہ بارش والے مقام کی جانب منتقل ہو جاتے ہیں۔

شہروں کی فضا کے لیے مفید

درخت شہروں کے اندر جہاں سایہ فراہم کرتے ہیں وہاں موسمی درجہٴ حرارت میں کم از کم پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک کمی کا سبب بھی بنتے ہیں۔ سورج کی مضر شعاؤں کو بھی روکتے ہیں۔

ہوا سے مضر اجزاء کا انجذاب

درخت فضائی ماحول میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو جذب کر کے آکسیجن چھوڑتے ہیں اور یہ انسانوں کے لیے انتہائی مفید عمل ہے۔ درختوں کے پتے خاص طور پر فضا میں سے زہریلی گیسوں مثلاً نائٹروجن آکسائیڈ اور سلفر ڈائی آکسائیڈ کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

صحت کی علامت

درخت انسانوں میں ذہنی دباؤ، تبذب و خوف اور ڈیپریشن کم کرنے میں بھی مددگار ہوتے ہیں اور اس باعث مسرت اور خوشی بانٹتے ہیں۔ پھول یا ہرے پتے انسانی بلڈ پریشر میں کمی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ یہ بدن کے مدافعتی نظام کو تقویت دیتے ہیں۔

درخت آپس میں باتیں بھی کرتے ہیں

جنگلات کا اپنا مواصلاتی نظام ہوتا ہے۔ یہ تقریباً زیر زمین بچھے انٹرنیٹ کی طرح ہے۔ زمین پر پھیلی فونگی پیغام رسانی میں معاونت کرتی ہے۔ قحط سالی یا کسی بیماری میں یہ باقاعدہ دُور کے درختوں تک پیغام ارسال کرتے ہیں۔

ہوا سے بھی درخت پیغام بیجتے ہیں

درخت پرواز نہیں کر سکتے لیکن کسی پریشانی میں وہ فضا میں ایسے کیمیائی مادے اور نامیاتی مرکبات چھوڑتے ہیں، جن سے وہ اپنے قریبی درختوں کو اپنی پریشانی سے آگاہ کرتے ہیں۔ کئی مرتبہ اپنے پتے جانوروں سے بچانے کے لیے ایسے اضافی کیمیائی مرکب کا اخراج کرتے ہیں جن سے پتے کڑوے ہو جاتے ہیں۔

مدد کی طلب

جب کبھی درختوں کو کیڑوں یا طفیلیوں کا سامنا ہوتا ہے تو یہ کیڑے کھانے والے فضا میں اڑتے چھوٹے چھوٹے حملہ آوروں (یہ بھی کیڑے ہی ہوتے ہیں) کو اطلاع کرتے ہیں۔ ایسے درختوں میں سیب کے علاوہ ٹماٹر کا پودا، کھیرے کی بیل اور لوبیے کے پودے وغیرہ نمایاں ہیں۔

طویل عمر والا درخت

زمیں پر کسی بھی نوعیت کی قدیمی زندگی رکھنے والے بھی درخت یا پودے ہیں۔ کئی درختوں کی عمریں ایک سو یا کئی سو برس تک ہیں۔ سب سے قدیمی درخت امریکی ریاست کیلیفورنیا کے سفید پہاڑ کے علاقے میں پایا جاتا ہے۔ اس کا نام میتھوسیلا ہے۔ اس کی عمر تقریباً چار ہزار آٹھ سو پچاس برس ہے۔ اس کو درخت بردگی سے محفوظ رکھا گیا ہے۔

بلند ترین درخت

یہ تصویر بھی دنیا کے بلند ترین درخت کی عکاسی سے قاصر ہے۔ سب سے بلند درخت ریڈ ووڈ ساحلی علاقے میں پایا جاتا ہے۔ اس بلند ترین درخت کو ہائپریئون کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس کی بلندی تقریباً ایک سو سولہ (115.86) میٹر یا تین سو اسی فٹ ہے۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں اس کو سن 2006 میں دریافت کیا گیا تھا۔

ریکارڈ ساز درخت

کیلیفورنیا میں ایک اور ایسا عجیب و غریب درخت ہے۔ یہ سیکُویا قسم سے تعلق رکھتا ہے لیکن اسی جنرل شیرمین کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا اپنے حجم کے اعتبار سے سب سے بڑا درخت ہے۔ اس کی بلندی تقریباً چورسی میٹرز اور تنے کی موٹائی آٹھ میٹر کے قریب ہے۔ تصویر میں درخت میکسیکو کی ریاست اوکزاکا میں ہے اور تنے کی موٹائی ساڑھے گیارہ میٹر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں