تعلیم و تربیت

آج ایجو کیشن کی پہلی کلاس تھی۔پوری کلاس نئے استاد کی منتطر تھی کہ اتنے میں ایک بچے نے استاد کے آنے کی خبر دی۔ابتدائی علیک سلیک کے بعد استاد نے سوال کیا! تعلیم و تربیت کسے کہتے ہیں۔؟ ہر طالب علم نے اپنی اپنی معلومات کے مطابق تعریف کی۔کسی نے کہا کہ پروان چڑھانا تو کسی نے کہا غذا دینا۔کسی کا جواب صلاحیات کو نکھارنا ،توکو ئی سوچ بچار کے بعد کہنے لگا کہ انسان کے اندر تبدیلی کو تعلیم کہتے ہیں۔استاد طلاب کے جواب سننے کے بعد مسکرا دیے اور بیان کرنے لگے۔۔۔
سڑک کنارے ایک نوجوان جا رہا تھا ۔اچانک گاڑی کے ساتھ ٹکر لگی شدید زخمی ہو کر ایک طرف گر گیا۔خون رسنے لگا اور جوان کے ہوش جاتے رہے۔قریب سے گزرتے راہگیروں نے جوان کو ایک پھٹے پر لٹایا اور قریبی ہسپتال جا پہنچے۔کافی منت سماجت کےبعدڈاکٹر سے وقت ملا۔لیکن ڈاکٹر کے ایک ہی جملے نے ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا کہ بھائی میری تو اتنی فیس ہے اگر ہے تو مریض کو دیکھوں گا ورنہ اپنی راہ لو۔مرتے کیا نہ کرتے سڑک کنارے کپڑا پھیلایا،کچھ پیسے اکٹھے ہوئے تو ڈاکٹر صاحب کو دیے اور مریض کو دیکھنے کی درخواست کی تب تک مریض کا کافی خون بہہ چکا تھا ۔
موصو ف نے جونہی معاینہ کرنے کے لیے کپڑا ہٹایا ایسا منظر دیکھا کہ مریض کو بچانے کے لیے ہاتھ پا ؤں مارنے لگا۔سب حیران ہوئے کہ یہ تبدیلی کیسے آئی کہ جو دیکھ کر راضی نہیں تھا اب جان بچانے کے لئے سر توڑ کوشش کر رہا ہے تھوڑی جستجو کے بعد پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب کا اپنا بیٹا تھا لیکن افسوس کہ ڈاکٹر صاحب کی آنکھوں کو سامنے وہ مر گیا اور وہ اسے نہ بچا سکا۔ موصوف دیوانہ ہو گیا اور کئی سال تک سڑکوں پر نشان عبرت بن کر پھرتا رہا ۔تمام طلاب بڑی توجہ سے استاد کی بات کو سن رہے تھے۔یہاں پر ٹھہرتے ہوئے استاد نے دوبارہ سوال کیا کہ تعلیم و تربیت کسے کہتے ہیں۔؟آیا بہت زیادہ ڈگریاں لینا علم کہلاتا ہے۔؟وہ تو اس بندے کو بھی میسر تھیں۔آیا تعلیم وتربیت ایسی چیزہے کہ جو انسان کو تبدیل کر دیتی ہے۔؟یعنی آپ غریب تھے علم حاصل کیا اور آفیسر بنے اور آپ کی کایا پلٹ گئی۔مالا مال ہو گئے۔اچھے سوٹ،کوٹھی،گاڑی،بنگلہ سب کچھ بدل گیا۔یہ سب کچھ علم کی برکت سے ہوا۔ایک کونے میں سوچ میں گم بچے نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا،استاد محترم !تبدیلی تو آئی لیکن منفی۔۔ڈگری تو تھی پر انسانیت نہ تھی ۔تعلیم و تربیت اسے کہتے ہیں کہ جو انسان کو اندر مثبت تبدیلی پیدا کرے۔جو کم ظرف کو اعلی ظرف بنا دے،جو بے شعور کو با شعور بنا دے،جو بد اخلاق کو با اخلاق بنادے۔
استاد نے طالب علم کو شاباش دی اور بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہم نے تعلیم کو صرف معلومات کی حد تک لیا ہے ۔اگر آج ہم ارد گرد نگاہ کریں تو نظر آئے گا کہ سب نمبروں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔اور کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ جس کے نمبر اعلیٰ ہیں کیا وہ کردار و اخلاق میں بھی اعلیٰ ہے یا صرف معلومات کا ذخیرہ ہے۔چونکہ آج پہلی کلاس ہے تو چند باتیں پلے باندھ لیں۔
میرے عزیزو!اپنا ہدف بلند رکھو ۔تعلیم اس لیے حاصل نہ کرو کہ ہم نے اس کے ذریعے کمائی کرنی ہے۔بلکہ آپ سب کا ہدف رضاءِالٰہی اور معاشرے کے لیے ایک مفید انسان بننا ہے۔اقدار کا لحاظ رکھتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جائیں۔جس طرح ایک انسان کا ہدف کپڑے دھونا ہوتا ہے لیکن اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے ہاتھ بھی صاف ہو جاتے ہیں۔جب آپ کے اندر اعلیٰ اخلاقی اقدار ہوں گی تب آپ ایک اچھے انسان بنیں گے پھر آپ چاہے پروفیسر بنیں ،ڈاکٹر بنیں ، عالم بنیں یا پھر انجینیر بنیں یا کسی بھی شعبۂ زندگی کا انتخاب کریں۔ یاد رکھیئے گا جو اچھا اور دردمند انسان ہوتا ہے وہی اچھا مسلمان ہوتا ہے۔ورنہ
زبان سے کہہ بھی دیا لاالہٰ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

اپنی تربیت جوانی میں کریں ورنہ جو عادتیں ابھی پختہ ہو گئیں وہ قبر تک ساتھ ہی جائیں گی۔ایک چھوٹے درخت کو اگر شروع میں ہی سیدھا کر دیا جائے تو آسان ہوتا ہے۔لیکن وہی اگر ٹیڑھا رہے اور بڑا ہو جائے تو سیدھا کرنامشکل ہی نہیں نا ممکن نظر آتا ہے۔
اسی لیے شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں!
در جوانی توبہ کردن شیوۂ پیغمبریست
وقت پیری گرگ ظالم میشود پرہیزگار

(جوانی میں توبہ کرنا انبیا ءؑ کا شیوہ ہے بڑھاپے میں تو ظالم بھیڑیا بھی پرہیز گار بن جاتاہے)۔شارٹ کٹ کی بجائے محنت کو اپنا شیوہ بنائیں۔تحقیق کا دامن نہ چھوڑیں۔معاشرے کے لئے قائدانہ کردار ادا کریں کیونکہ طالب علم معاشرے کا مؤذن ہوتا ہے اگر وہ سوتا رہے تو قوم کی نماز قضا ہو جائے گی۔جوان ایک قوم کا مستقبل ہوتا ہے جب وہ آگاہ اور بیدار ہو تو قوم کا مستقبل بھی تابناک ہوتا ہے۔جب آپ با شعور،با بصیرت ،با کردار اور محنتی بنیں گے تو کامیابی آپ کا مقدر ٹھہرے گی۔
منزل کی جستجو میں کیوں پھر رہا ہے راہی
اتنا عظیم ہو جا منزل تجھے پکارے

آج کیونکہ پہلی کلاس تھی تو کچھ باتیں ضروری سمجھتا تھا کہ آپ سے کی جائیں ۔کل سے ان شاءاللہ باقاعدہ کتاب سے آغاز کریں گے۔ایک بچے نے جاتے جاتے کہا استاد حقیقت میں کتاب تو یہی تھی جو آپ نے ہمیں پڑھا دی۔۔
تحریر: مقدر عباس

اپنا تبصرہ بھیجیں