آلودگی کے خاتمے اور صاف ہوامیں اضافے کے لیے کامسیٹس کے زیر اہتمام بین الاقوامی ویب نار

اسلام آباد( سنہرا دور ): کامسیٹس نے نیلے آسمان کے لیے صاف ہوا کی ضرورت کے حوالے سے اقوام متحدہ کے پہلے بین الاقوامی دن کی مناسبت سے ایک آن لائن تقریب(ویب نار)کااہتمام کیا،جس میں چین، جاپان، قازقستان، تنزانیہ، تھائی لینڈاورپاکستان کے ماحولیاتی ماہرین نے حصہ لیا۔ کامسیٹس نے اِن ماہرین کو اس یادگار دن کے حوالے سے شرکت کی خصوصی دعوت دی تھی۔ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا یہ پہلاعالمی دن تھا،جو7 ستمبر 2020 کومنایاگیا۔ کامسیٹس سینٹر (سی سی سی ایس) برائے آب و ہوا اور استحکام کے زیر اہتمام منعقدہ اس ویب نارمیں شریک ماہرین نے فضائی آلودگی کے تدارک، آلودگی کے صاف ہوا پرمضراثرات، اس کی مختلف حرکیات،آلودگی کے نتیجے میں پائیدار ترقی اور نشوونما کی راہ میں حائل روکاوٹوں اورمیعار کے مطابق صاف ہوامیں خرابیوں کی وجوہات جیسے موضوعات پر ایک دوسرے کے ساتھ اہم اور جامع معلومات شیئر کیں۔جس سے شاندارنتائج سامنے آئے۔ اس ویب نار میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یواین ای پی) برائے ایشیاء پیسیفک کلین ایئر پارٹنرشپ کے نمائندے اور دیگر سینئر عہدیداروں نے خطاب کیا،جن کا تعلق ادارہ برائے عالمی ماحولیاتی حکمت عملی(آئی جی ای ایس)جاپان،بین الاقوامی مرکز برائے آب و ہوا اور ماحولیات سائنس(آئی سی سی ای ایس)، ادارہ برائے ماحولیاتی طبیعیات(آئی اے پی)چین،الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی(کازاین یو)قازقستان،وزارت موسمیاتی تبدیلی(ایم سی سی)پاکستان اورتنزانیہ انڈسٹریل ریسرچ اینڈڈویلپمنٹ آرگنائزیشن(ٹی آئی آر ڈی او)تنزانیہ سے تھا۔اس آن لائن تقریب کی صدارت وفاقی دارالحکومت میں مرکز برائے موسمیاتی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ(سی سی آر ڈی) کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر انجم رشید نے کی جب کہ افتتاح سی سی سی ایس کے سربراہ سفیر شاہد کمال نے کیا۔دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریب کے مقررین نے فضائی آلودگی کی وجوہات اوراس سے متعلقہ سماجی اورپالیسی امور پر بھرپور روشنی ڈالی۔ انہوں نے ایشیا بحر الکاہل میں انسانی صحت پر فضائی آلودگی کے مضر اثرات اور متعلقہ پالیسی میں فوری ردوبدل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قابل عمل اور مفید تحقیق پر مشتمل تکنیک کو بروئے کار لاکر ایک ڈیٹا بیس اور نگرانی کانظام وضع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ماہرین نے صنعت، ٹرانسپورٹ، اینٹوں کے بھٹوں، ایس ایم ایز، زراعت، اور کچرے کو ٹھکانے لگانے کے انتظامات سمیت مختلف شعبوں میں چیلنجزاور ممکنہ ماحول دوست تجاویزپر بھی تبادلہ خیال کیا۔علاوہ ازیں بین الاقوامی فنانسنگ میکانزم، ٹیکنالوجیز پلیٹ فارمز اور سرمایہ کاری کے چینلز کوماحولیاتی کے مسائل کو حل کے لیے فنڈز میں کمی کو پُر کرنے میں مددگار ذرائع پر بھی بحث کی گئی۔ماہرین نے پاکستان میں یورو، وی فیول کے تعارف کی ضرورت،پرانی گاڑیوں کے بیڑے کی وجہ سے آلودگی میں اضافے،غیرمیعاری ریفائنریوں کی موجودگی اور جدید حالات و واقعات سے آگاہی کے بغیر سرکاری مشینری کے حالیہ پس منظرپرگہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس ویب نار کے انعقاد کے نتیجے میں ہوا میں آلودگی سے نمٹنے کے لیے سائنس اور تحقیق پر مبنی تجاویز اورسفارشات سامنے آئیں،جو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ضروری شراکت داری اوراس شراکت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اوراس عمل کو مزید تقویت پہنچانے اور موسمیاتی تبدیلیوں پر ایس ڈی جی کے بہتر انضمام اور پالیسیوں کی تیاری کے بارے میں تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں