اسلام آباد ہائیکورٹ، بھارتی مجرموں کی رہائی کی درخواست پر سماعت

اسلام آباد ہائیکورٹ میں 4 بھارتی مجرموں کی جیلوں سے رہائی سے متعلق درخواست پرسماعت ہوئی ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھارتی مجرموں کی جیلوں سے رہائی سے متعلق درخواست پر چیف جسٹس اطہرمن اللّٰہ نے سماعت کی، اس دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کا وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کو نوٹس دیتے ہوئے جواب طلب کر لیا گیا۔

دوران سماعت وکیل بھارتی ہائی کمیشن شاہ نواز نون ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ملزمان اپنی سزائیں پوری کرچکے ہیں، سزائیں پوری کرنے کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا گیا ہے۔

جس پر چیف جسٹس اطہرمن اللّٰہ کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ اگر قیدیوں کی سزائیں پوری ہوچکی ہیں تو انہیں کیوں رہا نہیں کر رہے؟ ملزمان کو کس عدالت نے سزا سنائی تھی؟

سماعت کے دوران وکیل بھارتی ہائی کمیشن کا کہنا تھا کہ فوجی عدالت نے آرمی ایکٹ کے تحت سزائیں سنائیں جو پوری ہوچکی ہیں۔

عدالت میں موجود سید محمد طیب شاہ ڈپٹی اٹارنی جنرل کی جانب سے کہا گیا کہ آئندہ سماعت پر حکومت سے ہدایات لے کر جواب دوں گا۔

واضح رہے کہ درخواست گزار کا بتانا تھا کہ سزا یافتہ 3 بھارتی مجرم لاہور جبکہ ایک کراچی کی جیل میں قید ہے۔

بعد ازاں عدالت کی جانب سے فریقین کو آئندہ سماعت تک تحریری رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سیکریٹری داخلہ اورسیکرٹری خارجہ کی جانب سے مجاز افسران آئندہ سماعت پر پیش ہوں جبکہ کیس کی مزید سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں