لاہور قلندرز کی سہیل اختر کی کپتانی میں شاندار کارکردگی

جو کارنامہ اظہر علی، ڈیوین براوو، برینڈن میک کولم، محمد حفیظ، اے بی ڈی ویلیئرز اور فخر زمان نے سرانجام نہ دے سکے، وہ کارنامہ لاہور قلندرز کے نئے کپتان سہیل اختر نے پی ایس ایل سیزن فائیو میں سر انجام دے دیا۔

سہیل اختر نے2020 پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندرز کو سیمی فائنل میں رسائی دلا کر تاریخ رقم کردی۔ سہیل اختر لاہور قلندرز کے ساتویں کپتان ہیں، جنہوں نے لاہور قلندرز کا پانچ سال کا انتظار ختم کرتے ہوئے ٹیم کو ٹاپ تھری میں پہنچایا۔ ہارڈ ہٹر بیٹسمین کی قیادت میں ٹیم نے 10میچز میں سے 5 میں فتوحات حاصل کیں۔

لاہور قلندرز کی ٹیم پاکستان سپر لیگ کے گذشتہ چار سیزن میں جیت کیلئے ترسی ہوئی نظر آئی۔ لاہور کو گزشتہ چار سیزن میں 36 میں سے 10میچز میں کامیابی نصیب ہوئی، 24میں ناکامی ہوئی اوردو میچز ٹائی ہونے کے بعد میچز کے فیصلے سپر اوور زمیں ہوئے۔

ایک میں کامیابی ملی جبکہ دوسرے میں ناکامی ہوئی۔ لاہور کی جیت کا تناسب 30فیصد رہا۔ یہ وہ واحد ٹیم تھی جس کا سفر گزشتہ چار سیزن میں آخری پوزیشن پر ختم ہوا۔ اظہر علی، ڈیوین براوو، برینڈن میک کولم، اے بی ڈی ویلیئرز، فخر زمان، محمد حفیظ، شاہین شاہ آفریدی جیسے بہترین کھلاڑیوں کی خدمات کے باوجود قلندرز کی ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی۔

ابتدائی ایڈیشن میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے موجودہ ٹیسٹ کپتان اظہر علی کو لاہور قلندرز کی کمان سونپی گئی ۔ انہوں نے 7میں دو میچز میں کامیابی دلائی، پانچ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی کارکردگی 28.57 کا تناسب رہا جبکہ ٹورنامنٹ کے پانچویں میچ میں کپتان اظہر علی کی جگہ سابق ویسٹ انڈین کرکٹر ڈیوین براوو نے کراچی کنگز کیخلاف کپتانی کے فرائض انجام دیئے جس میں لاہور قلندرز کو 27 رنز سےشکست ہوئی۔ لاہور قلندرز نے 2016پی ایس ایل میں اپنا سفر آخری پوزیشن پر ختم کیا۔

2017-2018 سیزن میں بھی قلندرز روٹھی قسمت کو منانے میں ناکام رہے۔ نیوزی لینڈ کے سابق کامیاب کپتان برینڈن میک کولم کو لاہور قلندرزکا قائد مقررر کیا گیا لیکن ٹیم کی قسمت پھر بھی نہ بدل سکی۔ ان دونوں سیزن میں برینڈن میک کولم کی ٹیم کو مجموعی طور پر 18میں سے صرف5 میچز میں کامیابی ملی۔ 11میں شکست ، دو میچز کا فیصلہ سپر اوور میں ہوا جس میں قلندرز کو ایک میں فتح ملی اور ایک میں شکست ہوئی۔ ان کی کارکردگی کا تناسب33.33فیصد رہا۔

پی ایس ایل فور میں لاہور قلندرز کی کپتانی کے فرائض تین کھلاڑیوں نے انجام دیئے۔ گزشتہ تین سیزن میں ٹیم کی کارکردگی مایوس کن نظر آنے کے بعد لاہور قلندرز نے پہلے محمد حفیظ کو 2019میں پاکستان سپر لیگ کا کپتان بنانے کا فیصلہ کیا لیکن’’پروفیسر صاحب‘‘دو میچز میں ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے انجری کا شکار ہوئے۔

انہوں نے صرف ایک میچ میں لاہور قلندرز کو فتح سے ہمکنار کیا اور ان کی کارکردگی کا تناسب50.00رہا۔ سابق جنوبی افریقی کپتان اے بی ڈی ویلئیرز کی قیادت میں قلندرز کو تین میچز میں سے ایک میچ میں کامیابی دلائی۔ فخر زمان نے 5میچز میں کپتانی کرتے ہوئےصرف ایک میچ میں ٹیم کو کامیابی سے سرفراز کیا اور آخری پوزیشن پر اختتام کیا۔

قلندرز نے پاکستان سپر لیگ میں نمایاں مقام حاصل کرنے کیلئے بہت جدوجہد کی ہے۔ لاہور قلندرز گزشتہ چار سیز ن سے کسی ایسے کپتان کی تلاش میں تھے جو ٹیم کو فتح سے ہمکنار کراتے ہوئے لیگ کا شاندار اختتام کرسکے اور سال 2020 میں لاہور کو سہیل اختر کی شکل میں بہترین کپتان مل گیا ۔ وہ اب تک27.86 کی اوسط سے 418 رنز بناچکے ہیں۔

34سالہ سہیل اختر کا تعلق خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن کے شہر ہری پور سے ہے لیکن وہ پختون نہیں ہیں۔ انہوں نے 24 سال کی عمر میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے انٹر ڈسٹرکٹ سینئر ٹورنامنٹ سے ڈیبیو کیا۔ مارچ1986میں پیدا ہونے والے کھلاڑی نے ایبٹ آباد کی نمائندگی کرتے ہوئے2012-13قائد اعظم ٹرافی سے فرسٹ کلاس کھیلنا شروع کی۔

انہوں نے 2013-2017تک 12فرسٹ کلاس میچز کھیلے۔ انہوں نے خود کو شارٹ فارمیٹ ٹی 20کرکٹ تک محدود کیا اور 2017-18میں فاٹا کی نمائندگی کرتے ہوئے303رنز بنائے۔ وہ2018 میں پاکستان کپ اور 2019-20 میں نیشنل ٹی 20میں ناردن کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرچکے ہیں۔

سہیل اختر نے 2017میں پاکستان میں کرکٹ سسٹم سے مایوس ہوکر کرکٹ کھیلنی چھوڑ دی تھی اور پاکستان اٹامک انرجی میں کلرک کی جاب شروع کردی تھی۔ ان کی زندگی میں ٹرننگ پوائنٹ اس وقت آیا جب انہوں نے میڈیا میں لاہور قلندرز پلیئرز ڈیویلپمنٹ پروگرام کا اشتہار دیکھا، تو انہوں نے قلندرز کی اکیڈمی میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی قسمت آزمائی جہاں قلندرز کے کوچز ان کی صلاحیتوں اور مہارت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

2018میں پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندرز کی ٹیم میں سہیل اختر کو شامل کیا گیا اور پہلے ہی سیزن میں عمدہ پرفارمنس کامظاہرہ کرتے ہوئے جلد ہی قلندرز کے بہترین کھلاڑیوں کی صفوں میں شامل ہوگئے۔

خیال رہے کہ لاہور قلندرز نے ابوظہبی میں پہلی بار ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں سہیل اختر کو کپتان مقرر کیا اور وہ اپنے پہلے ہی امتحان میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں سنچری بناکر یارکشائر کیخلاف ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔ ان کی قیادت میں لاہور قلندرز نے 2018 میں ابوظہبی ٹی ٹوئنٹی ٹرافی جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔

2019میں حفیظ، اے بی ڈی ویلئیرز اور فخر زمان کو آزمانے کے بعد پی ایس ایل سیزن فائیو میں سہیل اختر کو لاہور کی کمان سونپنا حیران کن تھا۔ ٹیم مینجمنٹ نے تجربہ کار محمد حفیظ کی موجودگی میں سہیل اختر کو کپتان مقرر کیا۔

رواں سیزن میں لاہور قلندرز کی ابتدا میں وہی مایوس کن کارکردگی رہی۔ قلندرز شکست کے سائے سے پیچھا چھڑانے میں ناکام نظر آئے اور لگاتار چار میچز میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے میچ میں ملتان سلطانز نے 5وکٹوں سےہرایا۔ دوسرے میچ میں محمد حفیظ کی 98رنز کی اننگز بھی قلندرز کو اسلام آباد یونائٹیڈ کیخلاف ناکامی سے نہ بچاسکی۔

اعصاب شکن میچ میں اسلام آباد نے ایک وکٹ سے فتح اپنے نام کی۔ تیسرے میچ میں پشاور زلمی نے 16رنز سے قلندرز کیخلاف کامیابی حاصل کی۔ لاہور قلندرز پر قسمت کی دیوی مہربان اس وقت ہوئی جب بین ڈنک اور سمت پٹیل نے چھکوں چوکوں کی برسات کرتے ہوئے دفاعی چیمپئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیلئے 209رنز کا پہاڑ کھڑا کردیا۔

بین ڈنک نے 10چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 93 رنز کی اننگز کھیلی اور پی ایس ایل کی تاریخ میں سب سے زیادہ چھکے مارنے کا ریکارڈ اپنے نام کیا جبکہ سمت پٹیل نے 71رنز بنائے۔ ہدف کے تعاقب میں سرفراز الیون نے 172رنز پر گھٹنے ٹیک دیئے اور لاہور کو 37رنز سے پہلی کامیابی ملی اور اس طرح لاہور نے پوائنٹس ٹیبل پر اپنا کھاتہ کھولا۔

ایک بار پھر لاہور قلندرز کا مقابلہ اسلام آباد یونائٹیڈ سے ہوا۔ لاہور کی ٹیم198رنز کے تعاقب میں بری طرح ناکام ہوئی اور 18.5 اوورز میں127رنز پر پویلین لوٹ گئی تاہم قلندرز نے ہمت نہ ہاری اور اگلے ہی میچ میں اپنی شکست کا سارا غصہ ’’پرپل فورسز‘‘پر نکال دیا۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکے بیٹسمین ،حریف پلیئرز سمت پٹیل، شاہین شاہ آفریدی، فیضان راجا اور سلمان ارشاد کے جال میں ایسے پھنسےکہ 98رنز تک محدود ہوگئے۔

ٹیل اینڈرز سہیل خان اور زاہد محمود کے علاوہ کوئی اور بیٹسمین بھی لاہور کے بولرز کا سامنا نہ کرسکا۔ سہیل خان32 اور زاہد 19رنز بناسکے۔ لاہور نے 8وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ ساتویں میچ میں بین ڈنک کی دھواں دھار بیٹنگ نے کراچی کنگزکے ہوش گم کئے۔

لاہور نے 185رنز کا ہدف دو وکٹوں کے نقصان پر پورا کرکے ایونٹ میں تیسری کامیابی اپنے نام کرکے دفاعی چیمپئن کو پوائنٹس ٹیبل پر آخری پوزیشن پر پہنچا دیا۔ بین ڈنک نے 40گیندوں پر 99رنز بنائے۔ ان کی اننگزمیں12چھکے اور تین چوکے شامل ہیں۔ 32سالہ بین ڈنک نے فلک بوس 12چھکے لگا کر اپنا ہی سب سے زیادہ چھکے لگانے کا ریکارڈ توڑ ڈالا۔

آٹھویں میچ میں ڈیوڈ ویز نےآخری اوور میں چھکا لگا کر لاہور قلندرز کی کشتی پار لگائی۔187رنز کے تعاقب میں لاہور کے اہم کھلاڑی فخر زمان، سہیل اختر، کرس لین، بین ڈنک اور محمد حفیظ160 رنز پر پویلین لوٹ چکے تھے۔ کریز پر موجود سمت پٹیل اور ڈیوڈ ویز نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کی ۔ آخری اوور میں جیت کیلئے 8رنز درکار تھے۔ پہلی گیند پر کوئی رن نہ بن سکا، اگلی تین گیندوں پر سنگل رنز بنے، اب 2گیندوں پر5رنز کی ضرورت تھی اور پانچویں گیند پر ڈیوڈ ویز نے شاندار چھکا مار کر ایک اور فتح سے ہمکنار کیا۔

لاہور قلندرز مسلسل تین میچز میں فتوحات سمیٹتے ہوئے 8 پوائنٹس حاصل کرکے پہلی بار تیسری پوزیشن پر براجمان ہوئے۔ لاہور کو لیگ کے دو میچز کراچی کنگز اور ملتان سلطانز کیخلاف کھیلنے تھے۔ کراچی کنگز کےخلاف میچ میں لاہور قلندرز کی ٹیم 10وکٹوں سے آؤٹ کلاس ہوئی۔ ایک طرف لاہورکا بولنگ اٹیک بری طرح ناکام ہواتو دوسری طرف بین ڈنک، محمد حفیظ اور فخر زمان بھی عمدہ اننگز نہ کھیل سکے۔ لیکن کپتان سہیل اختر نے اوپننگ کرتے ہوئے68 رنز کی اننگز کھیلی اور میزبان کراچی کو 151رنز کا ہدف دیا۔ کراچی کنگز کے بیٹسمین شرجیل اور بابر اعظم نے باآسانی مطلوبہ ہدف17.1اوورز میں بغیر نقصان کے پورا کیا۔

آخری میچ میں لاہور قلندرز کیلئے ’’مرو یا مارو‘‘Do and Die والی سچویشن تھی۔ لاہور قلندرز کی ٹیم ،ملتان سلطانز کیخلاف سر دھڑ کی بازی لگاتے ہوئے نظر آئی۔ پی ایس ایل 2020کی ٹاپ ٹیم ملتان سلطانز نےقلندرز کو جیت کیلئے 187رنز کا ٹارگٹ دیا۔ کرس لین کی ناقابل شکست سنچری نے اور فخر زمان کی جارحانہ بیٹنگ نے قلندرز کو سیمی فائنلز میں پہنچا دیا۔ قلندرز نے ملتان سلطانز کیخلاف 9وکٹوں سے کامیابی اپنے نام کی۔ کرس لین8چھکوں اور 12چوکوں کی مدد سے55 گیندوں میں 113رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے جبکہ فخر زمان نے57رنز بنائے۔

سہیل اختر کی کپتانی میں لاہور قلندرز پہلی بار سیمی فائنل میں ایکشن میں نظر آئے گا۔ سہیل اختر نے نہ صرف اپنے مداحوں کو مایوسی سے نکال کر خوشی سے نہال کردیا بلکہ لاہور قلندرز کے سابق کپتانوں کو مات دے کر کامیاب کپتان بننے کا اعزاز کرلیا۔ ’’دما دم مست قلندرز‘‘ کی اب تک کارکردگی غیر متوقع اور حیران کن ہے ۔ اگر لاہور قلندر ز کی ایسی ہی کارکردگی برقرار رہی تو لاہور قلندرز کو پی ایس ایل چیمپئن بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں